حیدرآباد، ایل پی جی کی دکانوں پر بندش ختم کرنیکا مظالبہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر ) سندھ ایل پی جی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نور رحمن نے کہاکہ حیدرآباد میں بھتا کے لیے ایل پی جی کی دکانوں کو ناجائز اور غیر قانونی قرار دیا جارہا ہے اگر ایل پی جی غیر قانونی ہے تو اس پر ملک بھر میں پابندی عائد ہونی چاہیے ضلعی انتظامیہ اورسول ڈیفنس ظلم اور زیادتی کا سلسلہ فوری بند کرے ۔وہ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کررہے تھے۔ اس موقع پر وائس چیئرمین اختر خان جنرل سیکرٹری عبدالقادر یوسفزئی اور زر بادشاہ بھی موجود تھے۔ نور رحمن نے کہاکہ اس وقت حیدرآباد میں گیس کی لوڈ شیڈنگ 12 گھنٹوں تک کی جارہی ہے جس کی وجہ سے 75 فیصد شہری ایل پی جی کا استعمال کررہے ہیں اور اس کاروبار سے وابستہ افراد ضلعی انتظامیہ اور سول ڈیفنس کی SOPs پر عمل کرتے ہوئے اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں جنہیں بے جا تنگ کیا جارہا ہے۔ نور رحمن نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ اور سول ڈیفنس نے پٹاخہ فیکٹری میں دھماکہ کے بعد ایل پی جی دکانوں کے لیے جاری کردہ لیٹر کو منسوخ کردیا جبکہ اس واقعہ سے ایل پی جی دکانداروں کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اسی طرح لیاقت کالونی میں چوڑی بھٹی کے پھٹنے پر بھی ایل پی جی کی دکانوں کو بند کرایا گیا۔ نور رحمن نے کہاکہ CNG سے وابستہ طاقتور افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی گزشتہ روز سی این جی پمپ پر مسافر کوچ کا حادثہ پیش آیا کوئی پمپ بند نہیں کیا گیا چونکہ ایل پی جی غریب لوگوں کا کام ہے ان کی دکانوں کو بند کردیا جاتا ہے جس سے حیدرآباد میں کم و بیش 300 دکانیں متاثر اور ان میں کام کرنے والے سیکڑوں افراد بے روزگار ہوجاتے ہیں۔ نو رحمن نے کہاکہ حساس مقامات اور آبادیوں میں قائم دکانیں منتقل کرانے میں ایسوسی ایشن انتظامیہ کے ساتھ ہے تاہم ایل پی جی دکانداروں کے ساتھ دہرا معیار کسی طور برداشت نہیں کیا جائیگا اس ضمن میں ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہوئی ہے اگر انتظامیہ اور سول ڈیفنس نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو سپریم کورٹ سے رابطہ کیا جائیگا اور ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے احتجاجی دھرنا بھی دیا جائیگا۔ نوررحمن نے کہاکہ پاکستان اور حیدرآباد سندھ میں ایل پی جی کے دو علیحدہ علیحدہ قانون نامنظور کرتے ہیں ملک میں دوقانون چل نہیں سکتے ملک بھر میں قدرتی گیس کی کمی کی وجہ گھریلو صارفین ہوٹلز مالکان اور پکوان سینٹرز ایل پی جی کا استعمال کررہے ہیں جو عوام کی ضرورت ہے صرف حیدرآباد کو نشانہ بنانا زیادتی ہے۔انہوں نے چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ گورنر وزیر اعلیٰ چیف سیکرٹری آئی جی سندھ کمشنر حیدرآباد ڈی آئی جی سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ایل پی جی کی دکانوں پر بندش فوری ختم کرنے اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی قبل ازیں سندھ ایل پی جی ڈیلرز ایسوسی ایشن نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں عہدیداران سمیت دکاندار حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی مظاہرین ایل پی جی کے کاروبار سے وابستہ افراد کے خلاف انتظامیہ اور سول ڈیفنس کی مبینہ زیادتیوں کاروبار کی بندش کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایل پی جی کی دکانوں نور رحمن نے کہاکہ
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :