Jasarat News:
2026-07-24@03:11:04 GMT

حیدرآباد، ایل پی جی کی دکانوں پر بندش ختم کرنیکا مظالبہ

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر ) سندھ ایل پی جی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نور رحمن نے کہاکہ حیدرآباد میں بھتا کے لیے ایل پی جی کی دکانوں کو ناجائز اور غیر قانونی قرار دیا جارہا ہے اگر ایل پی جی غیر قانونی ہے تو اس پر ملک بھر میں پابندی عائد ہونی چاہیے ضلعی انتظامیہ اورسول ڈیفنس ظلم اور زیادتی کا سلسلہ فوری بند کرے ۔وہ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کررہے تھے۔ اس موقع پر وائس چیئرمین اختر خان جنرل سیکرٹری عبدالقادر یوسفزئی اور زر بادشاہ بھی موجود تھے۔ نور رحمن نے کہاکہ اس وقت حیدرآباد میں گیس کی لوڈ شیڈنگ 12 گھنٹوں تک کی جارہی ہے جس کی وجہ سے 75 فیصد شہری ایل پی جی کا استعمال کررہے ہیں اور اس کاروبار سے وابستہ افراد ضلعی انتظامیہ اور سول ڈیفنس کی SOPs پر عمل کرتے ہوئے اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں جنہیں بے جا تنگ کیا جارہا ہے۔ نور رحمن نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ اور سول ڈیفنس نے پٹاخہ فیکٹری میں دھماکہ کے بعد ایل پی جی دکانوں کے لیے جاری کردہ لیٹر کو منسوخ کردیا جبکہ اس واقعہ سے ایل پی جی دکانداروں کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اسی طرح لیاقت کالونی میں چوڑی بھٹی کے پھٹنے پر بھی ایل پی جی کی دکانوں کو بند کرایا گیا۔ نور رحمن نے کہاکہ CNG سے وابستہ طاقتور افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی گزشتہ روز سی این جی پمپ پر مسافر کوچ کا حادثہ پیش آیا کوئی پمپ بند نہیں کیا گیا چونکہ ایل پی جی غریب لوگوں کا کام ہے ان کی دکانوں کو بند کردیا جاتا ہے جس سے حیدرآباد میں کم و بیش 300 دکانیں متاثر اور ان میں کام کرنے والے سیکڑوں افراد بے روزگار ہوجاتے ہیں۔ نو رحمن نے کہاکہ حساس مقامات اور آبادیوں میں قائم دکانیں منتقل کرانے میں ایسوسی ایشن انتظامیہ کے ساتھ ہے تاہم ایل پی جی دکانداروں کے ساتھ دہرا معیار کسی طور برداشت نہیں کیا جائیگا اس ضمن میں ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہوئی ہے اگر انتظامیہ اور سول ڈیفنس نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو سپریم کورٹ سے رابطہ کیا جائیگا اور ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے احتجاجی دھرنا بھی دیا جائیگا۔ نوررحمن نے کہاکہ پاکستان اور حیدرآباد سندھ میں ایل پی جی کے دو علیحدہ علیحدہ قانون نامنظور کرتے ہیں ملک میں دوقانون چل نہیں سکتے ملک بھر میں قدرتی گیس کی کمی کی وجہ گھریلو صارفین ہوٹلز مالکان اور پکوان سینٹرز ایل پی جی کا استعمال کررہے ہیں جو عوام کی ضرورت ہے صرف حیدرآباد کو نشانہ بنانا زیادتی ہے۔انہوں نے چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ گورنر وزیر اعلیٰ چیف سیکرٹری آئی جی سندھ کمشنر حیدرآباد ڈی آئی جی سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ایل پی جی کی دکانوں پر بندش فوری ختم کرنے اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی قبل ازیں سندھ ایل پی جی ڈیلرز ایسوسی ایشن نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں عہدیداران سمیت دکاندار حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی مظاہرین ایل پی جی کے کاروبار سے وابستہ افراد کے خلاف انتظامیہ اور سول ڈیفنس کی مبینہ زیادتیوں کاروبار کی بندش کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایل پی جی کی دکانوں نور رحمن نے کہاکہ

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل