وفاق اورصوبے نے حیدرآباد کو لاوارث چھوڑ رکھا ہے، سنی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان سنی تحریک کے سینئر مرکزی نائب صدر محمد خالد قادری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وفاق اور صوبہ نے سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کو لاوارث چھوڑ دیا ہے، 25 لاکھ سے زائد آبادی کا سندھ کا دوسرا بڑا شہر اور کراچی کے بعد سب سے زیادہ ریوینیو دینے والے شہرکے شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جو کہ حکومت کی ذمہ داری ہے ،منتخب نمائندے بھی کوئی کردار ادا نہیں کر سکے۔شہری اذیت میں مبتلا ہیں۔ بجلی ، پانی اور گیس غائب ہے عوام کہاں جائیںاور کس سے فریاد کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ ذاتی توجہ دیکر کوئی عملی اقدامات کریں گے۔ حیدرآباد شہر میں ڈینگی، ملیریا ، بخار وائرس کی وبا پھیلی ہوئی ہے ہر گھر میں ایک یا دو افراد اس وبا سے متاثر ہیں، ہسپتال بھرے پڑے ہیں شہری شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف بیماری اور مزید ستم یہ کہ نہ گیس ، نہ بجلی اور نہ پینے کا پانی ہے حیدرآباد کو بھی ٹینکر مافیا اور منرل واٹر کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دن بدن قرضوں میں جکڑتا جارہا ہے جبکہ عوام کو کوئی ریلیف نہیںہے۔ آئی یام ایف کی ہوشربا کرپشن کی رپورٹ پر حکومت کی خاموشی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ موسم سرما میں 8 سے 10 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ حیسکوچیف کی نااہلی ہے جبکہ سوئی سدرن گیس رات 10 بجے سے صبح 6 تک بندش کے علاوہ گیس پریشر میں کمی اور بلا جواز دن میں بندش شہریوں کے ساتھ ظلم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :