Express News:
2026-06-03@06:39:15 GMT

استثنا یا استثنیٰ یا اس تس نا

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

آپ تو جانتے ہیں کہ ہم نہ تو زیادہ عالم فاضل اورعامل کامل ہیں اوردانادانشور تو بالکل نہیں ہیں کیوں کہ ہم نے احمقوں سے دانش سیکھنے کے بجائے اڑوس پڑوس کے دانشوروں سے صرف حماقت ہی سیکھی ہے اورپھر ہماری سمجھ دانی بھی عامی ہے، اس لیے زیادہ اونچی باتوں کو سمجھتے نہیں ۔ چنانچہ آج کل یہ جو ’’استثنیٰ‘‘ نام کی چیز کے ہرجگہ، ہرطرف اورہروقت ’’چرچے‘‘ ہورہے ہیں، اس کے بارے میں بھی بس اتنا جانتے ہیں کہ یہ کوئی لفظ ہے (اس تث نا) اورمعنی ہیں کسی کو ہرقانون، ہرحکم اور ہرہرچیز سے بری اورآزاد کرنا، اسے مادر پدر آزاد اورسات خون معاف کرنا، جیسے بیل کو گلے سے رسی کھول کر چھوڑا جائے کہ جا جہاں چاہے چر ، جہاں چاہے چڑھ اورجہاں چاہے وڑ۔

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد

 جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

 اب ایسا استثنیٰ یا استثنا تو ہمارے اس خوش نصیب، خوش بخت اورخوشاخوش ملک میں ہرکسی کو پہلے ہی اتنا حاصل ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے اس میں استثنا ہی استثنا ہو اورباقی کچھ نہ ہوجسے ہر کوئی استثنا سے مالامال ہو ، نہال ہو اورصاحب جلال وجمال ہو،بے مثال ہو اورکمالوں کا کمال ہو اور مائی کالال ہو۔

بہت بڑے بڑے تاجر اورصنعت کار ہوں، چھوٹے چھوٹے دکاندار ہوں، ریڑھی بردار،  چھابڑی بردار ہوں ، مطلب یہ کہ ان سب کو سب کچھ سے استثنا حاصل ہے،ناپ تول سے، نرخوں سے اورحساب کتاب سے ، چاہے افسر ہو، بابو ہو یا چپڑاسی ہو، لیڈر ہو، سماجی کارکن ہو یا گورکن ہو، ممبریونین کونسل ہو، ایم پی اے ،ایم این اے ہو ، سینٹیر ہو ، ڈاکٹر ہو، کمپونڈر ہو یا نرس ہو، قانون نافذ کرنے والا ہو، تفتیش والا ہو یا اوپر اوپر اوراوپر سب سے نیچے تک کوئی بھی ہو، استثنا سے بھرا ہو،چاہے کچھ بھی نہ ہو وہ بھی استثنا بردار ہے یعنی اسے بھی مکمل چھوٹ حاصل ہے اور اس کی کوئی گرفت نہیں۔

ایک لطیفے یلکہ حقیقے نے دم ہلانا شروع کردی ہے،کئی سال پہلے پشاورمیں ایک دبلاپتلا سا کالا کلوٹا سا آدمی ہمیں کئی مقامات پر ملا کرتا تھا،کچھ اتفاق ایسا ہوجاتا کہ وہ ہمیں کہیں نہ کہیں مل جاتا اور اپنا مخصوص طریقہ یا استثنا دکھاتا رہتا تھا ،یہ استثنا ایک سرینج باکس کی شکل میں تھا اورجہاں بھی اسے اپنا استثنا دکھانا ہوتا جیب سے وہ باکس نکال کر اور کھول کر دکھاتا، اس باکس یا ڈبے میں روئی کے اوپر ایک ’’سرینج‘‘رکھی ہوتی تھی ، اس زمانے میں ابھی یہ ڈسپوز ایبل سرینج نہیں ہوتے تھے ، شیشے کے سرینج ہوتے تھے اوراس کے ساتھ کئی نیڈل ہوتے تھے جنھیں ابال ابال کر استعمال کیاجاتا ، سرینج بکس نکال کر وہ سامنے والے کو دکھاتا۔ یہ دیکھ، میں ڈاکٹر لطیف دا کمپونڈر آں۔ایک دفعہ ہم نے اسے آٹے کی دکان میں دیکھا، دکاندار کو سرینج دکھا کر ’’استثنا‘‘ حاصل کررہا تھا ، دوسری بار ہوٹل میں.

.. وہی ... دیکھ میں ڈاکٹر لطیف داکمپونڈر آں۔ تیسری بار ایک بس میں کلینر کو دکھا کر ٹکٹ سے استثنا کاطلب گارتھا، کئی جگہ پولیس والوں سے بھی...کمپونڈر کااستثنا حاصل کرتے دیکھا۔ڈاکٹرلطیف کون تھا یہ ہمیں کبھی معلوم نہیں ہوا ، باربار مل جاتاتھا، ان دنوں میں اتنی بھیڑ بھاڑ نہیں ہوتی تھی اس لیے کہیں سے بھی وہ دکھائی دے دیتا تھا ۔

یہی سلسلہ آج کل ہرجگہ ہے لیکن سرینج باکس اورڈاکٹرلطیف بیچ میں سے نکل چکے ہیں اورکمپونڈر کی جگہ اوربہت سارے ’’استثنائی‘‘ ہرجگہ موجود ہیں اور بھرپور استثنا حاصل کررہے ہیں ۔آپ اخباروں میں روزانہ گھپلوں، اسکینڈلوں،میگا اسکینڈلوں کی خبریں تو پڑھتے ہوں گے ۔اور ان سے متعلق سرکاری محکموں کی کامیابیوں کے بارے میں بھی پڑھتے ہوں گے لیکن کبھی ایسی بھی کوئی چیز نہیں پڑھیں گے کہ ان اسکینڈل مہا اسکینڈلوں اورگھپلوں میں کسی کو سزا بھی ہوئی ہو کیوں کہ بیچ میں ’’استثنا‘‘ حائل ہوجاتا ہے اورجب اسی استثنا کے اسٹامپ پیپر پر قائد کی تصویر بھی ہو ،مطلب کہ استثنا کا یہ حال ہے کہ ہرطرف اس کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے ،موسلادھار بارش ہو رہی ہے ، آندھیاں چل رہی ہیں تو پھر ایسے میں استثنا کے یہ چرچے کہ دانادانشور اس پرچے کے پرچے بھر رہے ہیں ، یہ یقیناً وہ استثنا نہیں جو ہم سمجھ رہے ہیں بلکہ یہ کوئی اوراستثنا ہے اورہماری سمجھ دانی میں نہیں آرہا ہے ، شاید یہ ( اس تث نا) نہ ہو بلکہ اس تسی نا ہو یا ایس ٹھیس نا ہو بلکہ (ت) کی جگہ (ص) سے بھی ہوسکتا ہے یا اس (ی) کی جگہ (ع) سے بھی ہوسکتا ہے یا(ز) سے بھی ۔ اوراستثنا کی جگہ استثنی بھی۔ مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے اورکچھ نہیں بھی ہوسکتا ہے۔

اب ہمارے حضرت ڈاکٹر پروفیسر بیرسٹر علامہ بھی یہاں نہیں ہیں وہ کینیڈا کو مسلمان بنانے میں مصروف ہیں اورباباجی ڈیمووالی سرکار بھی کہیں خلوت نشین یا حجلہ نشین ہوچکے ہیں اس لیے ہم

 کس سے پوچھیں کہ وصل میں کیا ہے

ہجر میں کیا نہیں کہ تم سے کہیں

 یا اورکوئی دانشور بھی ہماری مدد کرے تو اچھا ہوگا لیکن لگتا ہے وہ بھی عالمی معاملات اورعالمی لیڈروں کو مشورے دینے میں بزی ہیں ، اس لیے ہم حیران وپریشان کھڑے ہیں کہ یہ استثنا،استثنیٰ یا اس تس نا کیا ہے ، کیا وہی استثنا ہے جو اس ملک میں ہرکسی کو الغاروں تلغاروں حاصل ہے یا یہ کوئی اوربہت ہی خاص الخاص اورترقی دادہ قسم کی ’’چیز‘‘ ہے ۔

کوئی سمجھائے یہ کیارنگ ہے میخانے کا

آنکھ ساقی کی اٹھے نام ہو پیمانے کا

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھی ہوسکتا ہے ہیں اور حاصل ہے اس لیے بھی ہو ہے اور سے بھی ہیں کہ کی جگہ ہو اور

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان