Express News:
2026-07-24@01:15:55 GMT

ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

چیف آف ڈیفنس فورس کا عہدہ جنگ کے نئے تقاضو ں کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے۔ دنیا میں جنگ کے تقاضے بدل گئے ہیں۔ جنگ کے نئے روپ آگئے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی جنگی صلاحیت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے چیف آف ڈیفنس فورس کا عہدہ ضروری تھا۔ اس سے پہلے دنیا کے کئی ممالک اپنی فوجی کمان میں ایسی تبدیلیاں کر چکے ہیں۔

پاکستان کوئی نیا ملک نہیں ہے۔ پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف ایک بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورس کے عہدہ سے ائیر چیف اور نیول چیف کے عہدوں کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ دراصل ائیر فورس اور نیوی کے تمام انتظامی معاملات ائیر چیف اور نیوی چیف کے پاس ہی ہونگے، تقرر تبادلے، اور دیگر فیصلے ان کے اپنے اپنے چیف ہی کریں گے۔ چیف آف ڈیفنس فورس جنگ کے زمانے میں تینوں فورسز کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ تب اس کی اہمیت زیادہ ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ اب تو میزائیل اور سائبر فورس جیسے نئے شعبے آگئے ہیں۔ ان کی کمان بھی ہوگی۔

ملک کے دو صوبوں بلوچستان اور کے پی میں دہشت گردی کے واقعات زیادہ ہیں۔ اس ضمن میں ایک تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر ہم نیشنل ایکشن پلان اور دیگر شعبوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اقدامات کو دیکھیں تو بلوچستان حکومت کی کاوشیں کے پی حکومت سے کہیں زیادہ بہتر اور زیادہ ہیں۔ بلوچستان میں نیشنل ایکشن پلان کے کئی نکات پر کے پی سے بہتر عمل ہو رہا ہے۔

وہاں ایپکس کمیٹیوں کے اجلاس کے پی سے زیادہ ہیں اور اضلاع تک ڈسٹرکٹ اپیکس کمیٹیاں کام کر رہی ہیں۔ اسی لیے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی بھی ہوئی ہے۔ وہاں حالات کے پی کی نسبت بہتر بھی ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سول حکومت کے تعاون کے بغیر دہشت گردی کی جنگ کو کسی طرح جیتا نہیں جا سکتا۔ بلوچستان کی حکومت دہشت گردوں سے بات چیت کی بات نہیں کرتی۔ اور ان کے خلاف بیانیہ میں ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔

ڈی جی آئی یس پی آر نے بتایا کہ ایک وقت تھا کہ بلوچستان میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ روزانہ چھ ملین لٹر سے زیادہ تھی۔ لیکن بلوچستان حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے سے اب یہ اسمگلنگ دو ملین لٹر تک کم ہو گئی ہے۔ چار ملین لٹر روزانہ کی اسمگلنگ بند کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کو جانچنے کا ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ آپ کوئٹہ میں ایرانی تیل کی قیمت چیک کر لیں۔ اگر کم ہوگی تواسمگلنگ زیادہ ہے۔ اگر قیمت زیادہ ہو جائے تو سمجھیں اسمگلنگ بند ہے۔ یہ ڈیمانڈ اور سپلائی کا کھیل ہے۔

 آج کل کوئٹہ میں ایرانی تیل کی قیمت عام پٹرول کے برابر ہو چکی ہے جو اسمگلنگ کے خلاف ہمارے اقدامات کا ثبوت ہے۔ اس سوال پر کہ مکمل ختم کیوں نہیں کی جا سکتی۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان رقبہ میں پاکستان کا 44فیصد ہے، ایک وسیع علاقہ ہے۔ پاکستان میں پٹرول سپلائی کرنے والی کمپنیوں نے بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں نیٹ ورک نہیں بنائے ہوئے، وہاں پٹرول اور ڈیزل کے بغیر زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔ ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ دو ملین لٹر ان علاقوں کی ضرورت ہے۔ اس سے زیادہ کی اسمگلنگ دوسرے علاقوں کے لیے ہوتی ہے، اس کو روکا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے مقابلے میں کے پی حکومت اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے تعاون نہیں کر رہی۔ سب سے بڑا مسئلہ منشیات کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ منشیات دہشت گردی کو فنڈز سپلائی کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اس سے پہلے بھی بتایا گیا کہ تیرہ میں ہزاروں ایکڑ پر منشیات کاشت ہوئی ہے، تیرہ میں منشیات کا بازار لگتا ہے، اس کو روکنے کے لیے سول حکومت کی مدد چاہیے۔ اگر سول حکومت ہی منشیات کے کاروبار کا حصہ بن جائے گی تو مسائل بڑھ جائیں گے۔ اس سوال پر کہ کیا وزیر اعلیٰ کے پی کی زمین پر منشیات کاشت ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا ہم نے کوئی پٹوار خانہ نہیں کھول رکھا کہ کہاں کاشت ہوئی ہے، کونسی زمین کس کی ملکیت ہے یہ تو سول حکومت بتائے گی۔

اس سوال کے جواب میں کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے تیرہ میں منشیات کی کاشت کا مسئلہ زیادہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔انھوں نے کہا یہ تاثر بھی غلط ہے تیرہ اور خیبر میں متعدد آپریشن ہو چکے ہیں، جن میں تیرہ ون، تیرہ ٹو اور تیرہ تھری جیسے آپریشن شامل ہیں۔ اسی طرح خیبر ون، خیبر ٹو اور خیبر تھری شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آپریشن کر کے جب علاقہ دہشت گردوں سے کلئیر کروا کر دے دیا جاتا ہے، وہ دوبارہ کیسے آجاتے ہیں، انھیں دوبارہ کیوں آباد کیا جاتا ہے، منشیات کا بازار ہم نے نہیں سول حکومت نے بند کروانا ہے۔ بہت سے کام سول حکومت نے کرنے ہیں وہ نہیں کرتے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ بارڈر پر تو فوج ہے پھر دہشت گرد ملک میں داخل کیسے ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا یہ بیانیہ زیادہ کے پی سے آتا ہے۔

آپ کے پی کا افغانستان کے ساتھ بارڈر دیکھ لیں تقریباً بارہ سو کلومیٹر کا دشوار بارڈر ہے۔ ہم نے وہاں باڑ لگائی ہے لیکن باڑ کا فائدہ تب ہے جب اس کا ایک ایک انچ فوج کی گولی کے نشانہ پر ہو۔ اس وقت پچیس سے تیس کلومیٹر کے بعد ایک چیک پوسٹ ہے، کم از کم پانچ کلومیٹر کے بعد چیک پوسٹ ہونی چاہیے، اس کے لیے مزید فوج ، نفری اور وسائل چاہیے۔ ریاست یہ وسائل دے تو ممکن ہے، ورنہ امریکا بھی میکسیکو کا بارڈر بند نہیں کر سکا۔ اس کے پاس وسائل بھی ہیں فوج بھی ہے۔ وہ بھی شہروں سے لوگوں کو پکڑ کر نکال رہا ہے، اس لیے یہ کام سول اور فوج مل کر ہی کرتے ہیں۔ اگر سول حکومت انھیں پناہ دینے لگ جائے تو کیا کریں۔

اس سوال پر کہ عمومی تاثر یہی ہے کہ ٹی ٹی پی کو جنرل فیض اور جنرل باجوہ واپس لے کر آئے، فوج ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی۔ اس سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فوج ایک ادارہ ہے جو حکومت کے ساتھ کام کرتا ہے، آپ دیکھیں جس جماعت کی اس وقت حکومت تھی وہ آج بھی دہشت گردوں کی حمایت میں کھڑی ہے۔ آپ یہ بھی دیکھیں ٹی ٹی پی نے کے پی میں تمام جماعتوں کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا ہے، فوج کو نشانہ بنایا ہے، پولیس کو نشانہ بنایا ہے، نہیں نشانہ بنایا تو اس سیاسی جماعت کو نہیں بنایا گیا۔ وہ جماعت تب مرکز میں اقتدار میں تھی وہ تب بھی ان کے ساتھ بات چیت کی حامی تھی، آج بھی حامی ہے۔ آپ اس کو بھی دیکھیں بات سمجھ آجائے گی۔

افغانستان ،کے حوالے سے کافی سوال ہوئے۔ لیکن میرے نزدیک اہم بات یہی تھی کہ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں۔ فوج افغان طالبان کے حوالے سے اس فیصلہ پر پہنچ گئی ہے۔ یہ بھی طے ہوگیا ہے کہ کوئی اچھے طالبان نہیں جو دہشت گرد ہے وہ اچھا برا نہیں ہو سکتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر چیف ا ف ڈیفنس فورس انھوں نے کہا کہ نشانہ بنایا سول حکومت منشیات کا ملین لٹر کے جواب کے خلاف اس سوال نہیں کر کے ساتھ جنگ کے کے لیے گئی ہے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف