سندھ حکومت کی کراچی سرکلر ریلوے اور ہائی سپیڈ ٹرین کیلئے عالمی بینک سے تعاون کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
سندھ حکومت نے کراچی سرکلر ریلوے اور ہائی سپیڈ ٹرین کے لیے عالمی بینک سے تعاون کی اپیل کردی۔سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی سرکلر ریلوے اور کراچی تا سکھر ہائی سپیڈ ٹرین کو حکومت سندھ کے اہم اہداف قرار دیتے ہوئے ان منصوبوں کے لیے عالمی بینک سے تعاون کی اپیل کی ہے۔کراچی میں عالمی بینک کے وفد نے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سے ملاقات کی جس میں صوبے بھر میں اربن موبلٹی کی بہتری، ٹرانسپورٹ سسٹم کی مضبوطی اور مختلف ماڈلز پر تفصیلی گفتگو بھی کی۔شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ کراچی سرکلر ریلوے اور کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین منصوبے سندھ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوں گے اور حکومت سندھ چاہتی ہے کہ عالمی بینک ان منصوبوں میں اپنا کردار ادا کرے۔ملاقات کے دوران صوبائی وزیر نے عالمی بینک کے تعاون سے جاری ریلوے لائن بی آر ٹی منصوبے پر وفد کو بریفنگ دی، انہوں نے بتایا کہ ریلوے لائن کے اہم حصے تاج حیدر پل کا ایک حصہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ دوسرے حصے پر کام تیزی سے جاری ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ریلوے لائن بی آر ٹی سے متعلق فیصلے عوام اور منصوبے کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جا رہے ہیں اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے عالمی بینک کے مزید اور بروقت تعاون کی ضرورت ہے۔شرجیل میمن نے کہا ہے کہ عوام کو سستی اور تیز ترین سفری سہولیات فراہم کرنا حکومت سندھ کا واضح عزم ہے۔انہوں نے مزید بتایا ہے کہ حالیہ سال وفاقی حکومت کی جانب سے گرین لائن بی آر ٹی سندھ حکومت کے حوالے کی گئی ہے اور حکومت سندھ کے زیر انتظام اس کی یومیہ رائڈرشپ میں 33 ہزار کا اضافہ ہوا ہے، کراچی میں اربن موبلٹی کے لیے مزید بسوں کی ضرورت ہے اور اس شعبے میں عالمی بینک کی معاونت اہم ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کراچی سرکلر ریلوے اور حکومت سندھ عالمی بینک تعاون کی کے لیے
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔