سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں دو سال بعد بھی وائس چانسلر کا تقررناہوسکا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں دوسال گزرنے کے باوجود وائس چانسلر کا تقرر نہیں ہوسکا یونیورسٹی قائم مقام وائس چانسلر کے زریعے چلائی جارہی ہے پورے سندھ میں کیا کو ئی ایسی قابل تعلیمی ہستی موجود ہیں جو زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا عہدہ سنھبال سکے تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ کا تعلیم سے دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ سندھ کی واحد زرعی یونیورسٹی دوسال سے وائس چانسلر سے محروم ہے اور اسے قائم مقام وائس چانسلر کے زریعے چلایا جارہا ہے اہم زرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل اس سلسلے میں کچھ انٹرویو لیے گئے تھے لیکن اس کے باوجود کوئی فیصلہ حکومت سندھ نہیں کر سکی اور اب اس کو کافی عرصہ گزر چکا ہے جس کی وجہ سے دوبارہ نئے سرے سے انٹرویو کے لیے اشتہار جاری کیا جائے گا جب کہ زرعی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری سندھ یونیورسٹی جامشورو میں وائس چانسلر کا عہدہ سنھبال چکے ہیں زرعی یونیورسٹی کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں اس قابل اساتذہ موجود ہیں کہ وہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بن سکے لیکن حکومت اس کے باوجود انھیں وائس چانسلر مقرر نہیں کررہی انھوں نے کہا یہ نہایت افسوسناک بات ہے کہ اتنے اہم تعلیمی ادارے کو دوسال سے قائم مقام وائس چانسلر کے سہارے چلایا جارہا ہے جب کہ یونیورسٹی میں اکثر باہر ممالک کے وفد دورہ کرتے رہتے ہیں انھوں نے بتایا دوسال سے حکومت کو اپنی پسند کا ایک وائس چانسلر نہ ملنا افسوس کی اور حیرت کی بات ہے کہ سندھ کے اندر اس قابل کوئی تعلیمی حیثیت رکھنے والی ہستی موجود نہیں جو زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا عہدہ سنھبال سکے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔