ٹنڈو الہ یار: اے ڈی سی کی زیرصدارت ممتا پروگرام کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارت)ڈپٹی کمشنر ٹنڈوالہیار نور مصطفی لغاری کے احکاما ت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر وردہ نایاب کی زیر صدارت آج ڈپٹی کمشنر آفس ٹنڈوالہیار میں ممتا پروگرام کے حوالے سے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں انچارج سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی ٹنڈوالہیار میڈم رخسانہ بکیرو، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر زبیر احمد میمن،چیف آفیسر ڈسٹرکٹ کاؤنسل ٹنڈوالہیار، کو آرڈینیٹر مدر چائلڈ کیئر سینٹر ٹنڈوالہیار ڈاکٹر شمس ناز،ڈسٹرکٹ فیلڈ سپروائزرمرکی کراپ ٹنڈوالہیار عبدالرحیم، این آر ایس پی ٹنڈوالہیار کے نمائندہ، پی پی ایچ آئی ٹنڈوالہیار کی ڈاکٹر انعم اور دیگر متعلقہ محکموں کے ضلعی افسران اور مختلف این جی اوز کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ممتا پروگرام کے حوالے سے سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی انچارج رخسانہ بکیرو نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ پروگرام اس وقت سندھ کے 15 اضلاع میں کام کر رہا ہے جبکہ ٹنڈوالہیار میں اب تک 32 ہزار خواتین کی رجسٹریشن مکمل کی جاچکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے تحت حاملہ خواتین کو حمل کے پہلے مہینے سے لے کر بچے کے دو سال کی عمر تک 30 ہزار روپے دیے جاتے ہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔