قومی اسمبلی اجلاس میں تعلیم، ہیلتھ اور ماحولیات کے اہم بل زیر غور
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
قومی اسمبلی کا اجلاس کل بروز جمعرات 27 نومبر 2025 کو شام 5 بجے منعقد ہوگا جس میں تلاوت قرآن، حدیث اور قومی ترانہ کے بعد اہم حکومتی اور عوامی معاملات زیر بحث آئیں گے۔
اجلاس میں سب سے پہلے وزیر تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی توجہ طلب کی جائے گی کہ وفاقی کالجز اور اسکولز میں طلبہ کے لیے ناکافی ٹرانسپورٹ کی سہولیات عوام میں تشویش کا باعث ہیں۔
اس کے بعد کئی اہم بل متعارف کرائے جائیں گے جن میں کراچی پورٹ ٹرسٹ ایکٹ 1886، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سینئر سٹیزنز ایکٹ 2021، نیشنل فنڈ برائے کلچر ہیریٹیج ایکٹ 1994 اور نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیٹیوٹ ایکٹ 2021 میں ترامیم شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سینیٹ اجلاس میں نیشنل ایگری ٹریڈ اتھارٹی بل اور صحافیوں کے مسائل پر غور
وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی قومی اسمبلی میں کنگ حمد یونیورسٹی آف نرسنگ اور ایسوسی ایٹڈ میڈیکل سائنسز کے قیام، اور دانش اسکولز اتھارٹی کے قیام اور انتظامات کے بل پر غور اور منظوری کی تحریک پیش کریں گے۔
وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ قانو نِ شہادت 1984 میں ترامیم کا بل اسمبلی میں پیش کریں گے۔
اجلاس میں پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چودھری کی تحریکِ شکریہ پر مزید بحث بھی ہوگی، جس میں صدر پاکستان کے 10 مارچ 2025 کے مشترکہ خطاب پر شکرگزاری کا اظہار کیا جائے گا۔
وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی توجہ اسلام آباد کی فضائی آلودگی میں مسلسل اضافے کے بارے میں دلانا بھی ایجنڈے میں شامل ہے، جس سے عوام میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
طارق فضل چوہدری قومی اسمبلی کراچی پورٹ ٹرسٹ ایکٹ وزیر موسمیاتی تبدیلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری قومی اسمبلی وزیر موسمیاتی تبدیلی قومی اسمبلی اجلاس میں
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔