صدر مملکت نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس کل طلب کر لئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
صدر مملکت نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس کل طلب کر لئے WhatsAppFacebookTwitter 0 26 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) صدر مملکت آصف علی زرداری نے سینیٹ (ایوان بالا) اور قومی اسمبلی (ایوان زیریں) کے اجلاس کل طلب کر لئے۔
تفصیلات کے مطابق صدر مملکت نے سینیٹ کا اجلاس 27 نومبر شام چار بجے طلب کر لیا، جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس شام 5 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا، دونوں اجلاسوں میں اہم قانون سازی کی جائے گی۔
وزیراعظم شہبازشریف کی ایڈوائس پر صدر مملکت آصف زرداری نے اجلاس طلب کئے، دونوں اجلاس صدر نے آئین کے آرٹیکل 54 کے تحت طلب کئے ہیں، اجلاس 10 روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی رواں اجلاس کے دوران ہی طلب ہوگا، جو قوانین سینیٹ اور قومی اسمبلی سے پاس نہیں ہو سکے وہ مشترکہ اجلاس سے منظور کرائے جائیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسرزمین کا تحفظ اور قومی سالمیت اولین ترجیح ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سرزمین کا تحفظ اور قومی سالمیت اولین ترجیح ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، فیلڈ مارشل پی ٹی آئی کے بھگوڑے باہر بیٹھ کر پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں: خواجہ آصف وزیراعظم شہباز شریف بحرین کے 2 روزہ دورے پر روانہ ہو گئے اسلام آباد ہائی کورٹ: جسٹس راجہ انعام امین منہاس کی کازلسٹ طبیعت خرابی کے باعث منسوخ پی ٹی آئی نے ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کیا تھا، عمران خان کے نام پر ووٹ مانگا جو نہیں ملا، عظمی بخاری وزارتِ ہاوسنگ نے سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ سے متعلق قواعد میں اہم ترمیم کی منظوری دیدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اور قومی اسمبلی صدر مملکت نے سینیٹ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔