آئینی فرائض مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہیں، نریندر مودی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
بھارت کے وزیراعظم نے کہا کہ انکا نظریہ اور وژن ہمیں ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کی ہماری کوششوں میں تحریک دیتا رہتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز بھارت کے شہریوں سے اپنے آئینی فرائض کو پورا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ یوم آئین کے موقعے پر شہریوں کے نام لکھے گئے خط میں وزیراعظم نے ووٹ کا حق استعمال کر کے جمہوریت کو مضبوط کرنے کی ذمہ داری پر بھی زور دیا۔ نریندر مودی نے تجویز دی کہ اسکولوں اور کالجوں کو پہلی بار ووٹ دینے والوں کی عزت افزائی کر کے یوم آئین منانا چاہیئے۔ نریندر مودی نے کہا کہ اس سال کا یوم آئین خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ سردار ولبھ بھائی پٹیل اور برسا منڈا کی 150ویں یوم پیدائش، وندے ماترم کی 150ویں سالگرہ اور گرو تیغ بہادر کی 350 ویں یوم شہادت ملتا ہے۔
اس دوران نریندر مودی نے مہاتما گاندھی کے اس قول کو یاد کیا کہ حقوق فرائض کی انجام دہی سے حاصل ہوتے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ فرائض کی تکمیل سماجی اور اقتصادی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صدی کے آغاز کو 25 سال گزر چکے ہیں اور صرف دو دہائیوں میں بھارت نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی کے 100 سال مکمل کر لے گا۔ نیز 2049ء میں آئین کو اپنائے ہوئے ایک صدی ہو جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری حکومت کی پالیسیاں اور فیصلے آنے والی نسلوں کی زندگیوں کی تشکیل کریں گے۔
بھارتی وزیر اعظم نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ سب سے پہلے اپنے فرائض کو ذہن میں رکھیں کیونکہ ملک ترقی یافتہ بھارت کے وژن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایکس پر ایک اور پوسٹ میں نریندر مودی نے کہا کہ ہمارا آئین احترام، مساوات اور آزادی کو بہت اہمیت دیتا ہے، جہاں یہ ہمیں حقوق دیتا ہے، وہیں یہ ہمیں شہری کے طور پر ہمارے فرائض کی بھی یاد دلاتا ہے، جنہیں پورا کرنے کے لئے ہمیں ہمیشہ کوشش کرنی چاہیئے، یہ فرائض ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ دریں اثنا نریندر مودی نے آئین بنانے والوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ بھارت کی وزیراعظم نے کہا کہ ان کا نظریہ اور وژن ہمیں ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کی ہماری کوششوں میں تحریک دیتا رہتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ بھارت کے کی بنیاد زور دیا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :