’کم ظرف کی گفتگو سنیں، اس کو جیل میں فائیو اسٹار سہولیات میسر ہیں‘، خواجہ آصف کی عمران خان پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے نام لیے بغیر جیل میں قید سابق وزیراعظم اور بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی فیض حمید کے لیے کام کررہی تھی تو اس میں شاہزیب خانزادہ کا کیا قصور؟ خواجہ آصف برس پڑے
ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ ان (عمران خان) کو جیل میں غیرمعمولی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ’کم ظرف کی گفتگو سنیں ۔۔۔ اس کا کھانا باہر سے آتا ہے اور اس کا مینو ایسا ہے جو پانچ ستارہ ہوٹل میں بھی دستیاب نہیں ہوتا۔ اس کے پاس ٹی وی بھی ہے اور وہ اپنی مرضی کے چینل دیکھتا ہے۔ ورزش کی مشینیں تک موجود ہیں۔‘
انہوں نے اپنی سابقہ جیل قید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی ’ٹھنڈے فرش پر سوتے تھے، جیل کا عام کھانا کھاتے تھے اور جنوری کے مہینوں میں بغیر گرم پانی کے گزارا کرتے تھے۔
مزید پڑھیے: آپ نے تو جنرل باجوہ کو باپ بنا لیا تھا، خواجہ آصف کا پی ٹی آئی پر طنز
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ جیل اسد وڑائچ نے خود آ کر ان کا گیزر نکلوادیا تھا جبکہ آج کچھ لوگوں کو جیل میں ڈبل بیڈ اور مخملیں بستر تک میسر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے افراد کو چاہیے کہ جیل کے لاؤڈ اسپیکر پر اپنی تقاریر سنیں اور اللہ سے ڈریں کیونکہ وقت کی ملکیت کسی کے پاس نہیں ہوتی۔
کم ظرف کی گفتگو سنیں۔ اسکا کھانا باہر سے آتا ھے اور اسکا مینو چیک کریں 5سٹار ھوٹل میں وہ کھانا دستیاب نہیں ۔ اسکے پاس TV بھی ھے اور مرضی کے چینل دیکھتا ھے۔ ورزش کی مشینیں بھی موجود ھیں۔ ھم تو ٹھنڈے فرش پر سوتے تھے۔ کھانا جیل کا تھا۔ جیل کے دو کمبل تھے۔ جنوری کے مہینے تھے گرم… https://t.
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) November 26, 2025
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے واشنگٹن میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ن لیگی لیڈرشپ کے حوالے سے کہا تھا کہ لوگوں کو جیل میں کھانا گھر کا چاہیے، ایئرکنڈیشن اور ٹی وی چاہیے جبکہ 80 فی صد پاکستانیوں کے پاس تو ایئر کنڈیشن اور 60 فیصد کے پاس ٹی وی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان کو جیل سزا کاٹنے بھیجا ہوا ہے تو اگر جو یہ مانگ رہے ہیں اگر ہم وہ سب کو دے دیں تو پاکستان کی آدھی آبادی تو خوشی سے جیل میں رہنے کو تیار ہوجائے گی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما پاکستان کی جی ایس پی پلس سہولت کیخلاف مہم چلا رہے ہیں، خواجہ آصف
پھر عمران خان نے یہ بھی کہا تھا کہ ’میں ملک واپس جاکر نکالتا ہوں زرا یہ ٹی وی وغیرہ‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جیل میں سہولیات پر خواجہ آصف کا بیان خواجہ آصف کی عمران خان پر تنقید وزیر دفاع خواجہ آصف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف کی عمران خان پر تنقید وزیر دفاع خواجہ ا صف خواجہ ا صف کو جیل میں خواجہ آصف کہا کہ کے پاس تھا کہ
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش