کراچی، بزم خادمان اہلبیتؑ کے تحت ایام فاطمیہ کی مناسبت سے دلسوز منظر کشی کا اہتمام
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
منظر کشی کے دوران بیت سیدہ فاطمہ زہراء (س)، شہادت بی بی سیدہ (س) سے متعلق واقعات، بیت الحزن، جناب سیدہ (س) کے باغ فدک، مدینہ منورہ، روضہ رسول خدا (ص)، جنت البقیع، میدان کربلا معلیٰ و دیگر متعلقہ موضوعات کی مناسبت سے ماڈلز بنائے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے نیو رضویہ سوسائٹی میں بزم خادمان اہلبیتؑ کے زیر اہتمام مسجد و امام بارگاہ سامرہ میں ایام شہادتِ حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے دلسوز منظر کشی کی گئی۔ اس موقع پر بیت سیدہ فاطمہ زہراء (س)، شہادت بی بی سیدہ (س) سے متعلق واقعات، بیت الحزن، جناب سیدہ (س) کے باغ فدک، مدینہ منورہ، روضہ رسول خدا (ص)، جنت البقیع، میدان کربلا معلیٰ و دیگر متعلقہ موضوعات کی مناسبت سے ماڈلز بنائے گئے۔ دلسوز منظر کشی کا بڑی تعداد میں عزاداران بی بی سیدہ (س) نے دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بی بی سیدہ فاطمہ الزہرا (س) کے اقوال کے ذریعے متعلقہ واقعات کی اہمیت اور کی تاریخ سے گہری آگہی کی ضرورت پر زور دیا۔ دورہ کرنے والی خواتین و مرد حضرات نے منظر کشی کے اہتمام سے متعلق کاوشوں کو سراہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی مناسبت سے سیدہ فاطمہ
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔