شرمیلا فاروقی کو پارلیمنٹ لاجز کا ماحول جیل جیسا کیوں لگا؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
قومی اسمبلی کے ارکان چاروں صوبوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں۔ اراکین اور ان کی فیملیز کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے بالکل سامنے پارلیمنٹ لاجز قائم ہیں جہاں مختلف فلیٹس میں اراکین رہائش پذیر ہیں۔ اس رہائش کا کرایہ بھی اراکین سے وصول کیا جاتا ہے جبکہ رکن کی مدت ختم ہونے کے بعد یہ فلیٹ، جسے لاج کہا جاتا ہے، واپس لے لیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گرفتار پی ٹی آئی ارکان قومی اسمبلی کے لیے پارلیمنٹ لاجز کو سب جیل قرار دینے کا فیصلہ
پارلیمنٹ لاجز کی تعمیر چونکہ دہائیوں قبل ہوئی تھی اور بروقت مرمت نہ ہونے کے باعث اکثر و بیشتر اراکین اس کی خراب صورتحال، صفائی ستھرائی کے فقدان اور سیکیورٹی انتظامات پر سوال اٹھاتے رہتے ہیں۔ آج بھی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ارکانِ پارلیمنٹ نے اس معاملے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ لاجز کو ’جیل جیسا ماحول‘ قرار دے دیا۔
پیپلزپارٹی کی رکنِ قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے سخت الفاظ میں پارلیمنٹ لاجز کی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز کی حالت ایسی ہے جیسے ہم سرکاری جیل میں آگئے ہوں۔ اس گندگی کے ماحول میں خواتین وہاں نہیں رہ سکتیں۔ وہاں ایسے لوگ رہ رہے ہیں جن کا پارلیمنٹ سے کوئی تعلق نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا پہلا دن تھا اور میں گھبرا گئی۔ میرا خیال ہے کہ وہاں تو مرد بھی محفوظ نہیں۔ چیئرمین سی ڈی اے فون نہیں اٹھاتے، اس لیے یہاں سب کچھ بتا رہی ہوں۔ اگر حالت ایسی رہی تو بہت شور مچاؤں گی۔
یہ بھی پڑھیں:شرمیلا فاروقی کی مکیش امبانی سے ملاقات، سوشل میڈیا پر ملاقات سے متعلق کیا کہا؟
چیئرمین سی ڈی اے نے وضاحت دی کہ پارلیمنٹ لاجز کی مرمت و تزئین و آرائش کے لیے سمری وزارتِ خزانہ کو بھجوائی جاچکی ہے جو التوا کا شکار ہے، جس پر شرمیلافاروقی نے کہا کہ کم ازکم صفائی تو کروا دیں، رینوویشن بعد میں بھی ہوسکتی ہے۔
رکنِ اسمبلی نبیل گبول نے بھی پارلیمنٹ لاجز کے ناقص انتظامات پر سی ڈی اے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے کو چار بار فون کیا، انہوں نے کال نہیں اٹھائی۔ ہمارے لاجز کی لفٹ 4 دن سے بند ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کمیٹی نے ہدایت جاری کی کہ کنٹریکٹرز حکومتی مقررہ ویجز پر ملازمین کو چیک کے ذریعے تنخواہیں دیں اور کسی بھی صورت کم اجرت پر کام نہ لیا جائے۔
کمیٹی اجلاس میں پولیس کے رویے پر بھی تنقید کی گئی۔ رکنِ کمیٹی آغا رفیع اللّٰہ نے گزشتہ اجلاس کے منٹس کی توثیق سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں قرآن پاک پر حلف دیتا ہوں کہ یہ سب جھوٹ ہے، میں منٹس کنفرم نہیں کرسکتا۔ کیا نظام اتنا کھوکھلا ہے کہ اگر ایک ایس ایچ او کو کسی کی سپورٹ حاصل ہو تو اسے کوئی نہیں پوچھتا؟ ایس ایچ او کیسے لوگوں کو اٹھاتا ہے، مارتا ہے، ایف آئی آر درج کرتا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں؟
سیکریٹری داخلہ نے معاملے کی انکوائری کے لیے آئی جی اسلام آباد کو طلب کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ بغیر مؤقف سنے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے، جس پر آغا رفیع اللّٰہ نے شکوہ کیا کہ آئی جی اسلام آباد تو اتنے مضبوط ہیں کہ فون تک نہیں اٹھاتے۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں آئی جی سے رپورٹ طلب کرلی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پارلیمنٹ لاجز چیئرمین سی ڈی اے رکنِ اسمبلی نبیل گبول شرمیلا فاروقی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پارلیمنٹ لاجز چیئرمین سی ڈی اے رکن اسمبلی نبیل گبول شرمیلا فاروقی پارلیمنٹ لاجز کی چیئرمین سی ڈی اے شرمیلا فاروقی قومی اسمبلی کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔