شعیب ملک سے علیحدگی کے بعد ثانیا مرزا کی زندگی دشوار ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
بھارتی ٹینس اسٹار ثانیا مرزا نے پہلی بار اس بات کا کھل کر اعتراف کیا ہے کہ سابق شوہر شعیب ملک سے علیحدگی کے بعد بطور سنگل پیرنٹ زندگی گزارنا ان کے لیے کتنا مشکل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد پار بچے کی پرورش نہایت چیلنجنگ ذمہ داری ہے۔
ثانیا مرزا، جو پاکستانی کرکٹر شعیب ملک سے شادی کے بعد دبئی منتقل ہوئیں، علیحدگی کے بعد اپنے بیٹے اذہان کی بنیادی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔ ایک حالیہ گفتگو میں، جو انہوں نے فلم ساز اور میزبان کرن جوہر کے ساتھ کی، ثانیا مرزا نے اعتراف کیا کہ تنہا والدین بننا نہ صرف جذباتی طور پر بھاری ہے بلکہ اپنے مصروف پیشہ ورانہ معمول کے ساتھ اسے سنبھالنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
گفتگو کے دوران ثانیا نے کہا ’میرے لیے سنگل پیرنٹنگ مشکل ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ہم کام بھی کر رہے ہوتے ہیں اور متعدد ذمہ داریاں ساتھ ساتھ نبھانا پڑتی ہیں۔‘
کرن جوہر، جو خود بھی اپنے جڑواں بچوں یش اور روحی کے سنگل پیرنٹ ہیں، نے ثانیا کو اس صورتحال کا مثبت پہلو دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ’کیا آپ نے اس کا دوسرا رخ دیکھا ہے؟ یہ ایک طرح سے آزاد کر دینے والا تجربہ بھی ہے کیونکہ آپ کو کسی دوسرے شخص کے ساتھ فیصلہ سازی کے تنازعے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔‘
ثانیا مرزا نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ کئی بار وہ کام کے سلسلے میں گھر سے نکلتے وقت اپنے بیٹے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اپنے آپ کو جذباتی طور پر بہت کمزور محسوس کرتی ہیں، اور بعض اوقات تنہائی سے بچنے کے لیے کھانا تک چھوڑ دیتی ہیں تاکہ اکیلے میز پر بیٹھنے کا احساس نہ ہو۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ والدین کی ذمہ داری اور پیشہ ورانہ زندگی کے تقاضوں کے درمیان توازن رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے، خاص طور پر جب بچہ سرحد کے دونوں جانب والدین کے ساتھ وقت گزارتا ہو۔
ثاینا مرزا کی یہ گفتگو بہت سے سنگل والدین کے لیے قابلِ فہم جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جو اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے ساتھ بچوں کی ذمہ داریاں بھی نبھاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ثانیا مرزا کے ساتھ کے بعد کے لیے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔