جعلی کرنسی کیس میں پولیس افسر محمد بلال قیوم کو سروس سے برطرف کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 18 کے افسر محمد بلال قیوم کو جعلی کرنسی کے معاملے میں نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: پشاور میں جعلی کرنسی کی فیکٹری سے کروڑوں روپے کے نوٹ برآمد
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ بلال قیوم نے 50 لاکھ روپے کی رقم عامر نامی شخص کو دی تھی، جس کے ذریعے جعلی نوٹ استعمال کیے گئے۔
ایجنٹ عامر اس رقم کے استعمال کے دوران پکڑا گیا، اور ایف آئی اے کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ رقم پولیس افسر کی جانب سے فراہم کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: کراچی ایئرپورٹ پر مسافر سے لاکھوں مالیت کی جعلی بھارتی کرنسی برآمد
بلال قیوم نے اپنی خدمات کے دوران اسپیشل برانچ، ٹیلی کمیونیکیشن اور دیگر برانچز میں تعینات رہ کر مختلف اہم ذمہ داریاں نبھائی ہیں، تاہم جعلی کرنسی کے اس کیس کے بعد انہیں سروس سے برطرف کردیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افسر بلال قیوم پولیس سروس آف پاکستان جعلی کرنسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افسر بلال قیوم پولیس سروس آف پاکستان جعلی کرنسی جعلی کرنسی بلال قیوم
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔