data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی کے علاقے شاہ علی گوٹھ کے قریب محمد سٹی میں ایک المناک واقعہ پیش آیا، جس میں مسلح ڈکیتوں نے گھر میں ڈکیتی کی کوشش کے دوران ایک شہری کو موت کے گھاٹ اتار دیا، 50 سالہ شاہد ولد عبدالکریم، نجی میڈیسن کمپنی میں ملازمت کرتے تھے اور تین بیٹیوں کے واحد کفیل تھے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تین مسلح ملزمان شاہد کے گھر داخل ہوئے تو انہوں نے ڈکیتوں کی مزاحمت کی، جس پر ملزمان نے فائرنگ کر دی۔ واقعے کے بعد پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر کے تفتیش شروع کر دی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ملوث ملزمان کی گرفتاری ممکن ہو سکے، مقتول کی لاش جناح اسپتال منتقل کی گئی، جہاں رشتہ داروں نے شاہد کو انتہائی شریف النفس اور بے دشمن شخص قرار دیا۔

رشتہ دار محمد عمیر کے مطابق جمعرات کو شاہد اتفاقیہ چھٹی پر گھر پر موجود تھے اور جب تین مسلح ڈکیت گھر میں داخل ہوئے تو بچیوں کی موجودگی کے پیش نظر انہوں نے ملزمان کو گھر سے باہر نکلنے کی ہدایت کی۔ اس پر ڈکیتوں نے فائرنگ کر دی اور فرار ہو گئے۔

مقتول کے اہل خانہ نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے، تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔

واضح رہے کہ رواں سال کراچی میں ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران مزاحمت پر شہریوں کو ہلاک کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اب تک 79 شہری اس نوعیت کے جرائم کا شکار ہو چکے ہیں، جس نے شہر میں عوام کی حفاظت کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست

اغوا برائے تاوان کیس میں پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے وکیل نے عدالت سے ضمانت واپس لینے کی درخواست کی ہے۔

کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں اداکار منیب بٹ کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ان کے وکیل نے ضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کر دی۔

سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنے چالان میں منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا ضمانت کی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدعی محمد متعال کو اغوا کر کے 24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر سامان لوٹ لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ منیب بٹ پر ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے کا الزام تھا، تاہم تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں ایک پولیس اہلکار غالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں۔

تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا اور کرپٹو کرنسی سمیت دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد انہیں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ دیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان میں طالبان رجیم کیخلاف مزاحمت مزید زور پکڑنے لگی، مخالف گروپوں کے حملوں میں تیز ی آگئی
  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • کراچی کے 2 اسٹریٹ کرمنلز مردان میں پولیس مقابلے میں ہلاک
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک