کیا تنخواہ دار طبقہ مجموعی ٹیکس وصولیوں کا صرف 4 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
ملکی معاشی صورتحال کے باعث حکومت نے دیگر شعبوں کی طرح تنخواہ دار طبقے پر بھی بھاری مقدار میں ٹیکس عائد کیا تھا۔ یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے جبکہ دیگر شعبے زیادہ ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ تاہم ایف بی آر کے ریکارڈ میں انکشاف ہوا ہے کہ مالی سال24-2025 کے دوران تنخواہ دار طبقے سے 498 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا ہے جبکہ مجموعی ٹیکس وصولی 11 ہزار 747 ارب روپے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تنخواہ دار طبقہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب گیا، ریلیف دینے کے لیے بڑی تجویز سامنے آگئی
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سب سے زیادہ ٹیکس وصولیوں میں حصہ ڈالنے والے شعبوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں جمع کرا دی ہیں، جس کے مطابق مالی سال 24-2025 کے دوران سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شعبہ بینکنگ سیکٹر ہے جس سے 1 ہزار 127 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔
پیٹرولیم سیکٹر سے 1 ہزار 121 ارب روپے، پاور سیکٹر سے 858 ارب روپے، ریٹیلرز اور ہول سیلرز سے 693 ارب روپے جبکہ تنخواہ دار طبقے سے 498 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔
ریکارڈ کے مطابق بینکنگ اور پیٹرولیم کے شعبے ٹیکس ادائیگی میں سب سے آگے رہے، جنہوں نے مشترکہ طور پر 2 ہزار 248 ارب روپے سے زائد قومی خزانے میں جمع کروایا، جو مجموعی ٹیکس کا 19.
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس کی ادائیگی میں تنخواہ دار طبقہ سب سے آگے، اعداد و شمار سامنے آگئے
ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں چار بڑے ٹیکس ہیڈز کے تحت مجموعی وصولی 11 ہزار 747 ارب روپے رہی۔ 5 ہزار 794 ارب روپے انکم ٹیکس، 3 ہزار 901 ارب روپے سیلز ٹیکس، 767 ارب روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی جبکہ 1 ہزار 285 ارب روپے کسٹم ڈیوٹی کی مد میں وصول کیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انکم ٹیکس ایف بی آر پاکستان تنخواہ دار طبقہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انکم ٹیکس ایف بی ا ر پاکستان تنخواہ دار طبقہ تنخواہ دار طبقہ زیادہ ٹیکس ٹیکس وصول ارب روپے
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔