حیدرآباد،سندھ آبادگار احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سندھ آبادگار اتحاد کے صدر نواب زبیر احمد تالپور نے گنے کی کرشنگ شروع نہ ہونے کے خلاف 24 نومبر کو حیدرآباد میں احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نومبر اختتام کے قریب ہے لیکن اب تک گنے کی پسائی شروع نہیں کی گئی ہے اور جو شوگر ملیں اکتوبر میں چلنی چاہئیں تھیں وہ نومبر کا نصف گزر جانے کے باوجود بھی نہیں چلائی گئیں۔ نواب زبیر احمد تالپور نے اپنے جاری بیان میں مزید بتایا کہ پنجاب میں کچھ ملوں نے کرشنگ شروع کردی ہے، مگر سندھ میں مکمل خاموشی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب چینی 120 روپے فی کلو تھی اس وقت گنا 400 سے 500 روپے فی من خریدا گیا تھااور آج جبکہ چینی کی قیمت 230 روپے سے تجاوز کرچکی ہے، تب بھی گنے کا نرخ 400 روپے رکھا گیا ہے جوکہ آبادگاروں کے معاشی قتلِ عام کے مترادف ہے۔نواب زبیر احمد تالپور نے کہا کہ جب گنا مارکیٹ میں نہیں آئے گا تو گندم کی کاشت کیسے ہوگی؟ پہلے گندم، کپاس اور دھان کے نرخوں میں زیادتی کی گئی اور اب گنے کے نرخ بھی مناسب مقرر نہیں کیے جارہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں ہمیشہ گنے کی پسائی دیگر صوبوں کے مقابلے میں پہلے شروع ہوتی ہے کیونکہ سندھ میں گنے کی فصل پہلے تیار ہوتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ آبادگار اتحاد نے اس سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کردی ہے۔انہوںنے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر 24 نومبر تک شوگر ملوں میں گنے کی کرشنگ شروع نہیں کی گئی تو پھر 24 نومبر کو دوپہر 12 بجے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گنے کی
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔