اسلام آباد:

ملک کے مختلف شعبوں میں سالانہ اربوں روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے، ایف بی آر نے 17 شعبوں کی پیداوار میں سیلز ٹیکس چوری روکنے کے لیے کیمرا مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ انکشاف بدھ کو سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت  سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ہوا۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ٹائلز سیکٹر کی مانیٹرنگ کیلئے 16 کے بجائے چار مانیٹرنگ کیمرے لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ راشد لنگڑیال نے کہا کہ ٹائلز سیکٹر کی ہر ٹائل کی مینوفیکچرنگ کی مانیٹرنگ کی جائے گی، ٹائلز مینوفیکچرنگ کمپنیاں پیداوار کی غلط معلومات فراہم کرتی ہیں جس پر اعتماد نہیں ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ٹائلز مینوفیکچرنگ کمپنیاں انڈرپروڈکشن ڈکلیئر کرتے ہیں، رواں ماہ کے دوران بھی ایف بی آر کو ریونیو شارٹ فال ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری سے ٹیکس شارٹ فال پورا کرنے کیلئے تاحال اضافی ٹیکس اقدامات کا فیصلہ نہیں کیا، سب سے پہلے شوگر ملوں کی پیداوار کی مانیٹرنگ کیلئے کیمرے لگائے ہیں۔

راشد لنگڑیال نے کہا کہ وزرا کی شوگر ملز ہیں وزیراعظم نے ہدایات دیں کہ سب کی مانیٹرنگ کی جائے ایف بی آر پیداوار کی مانیٹرنگ کیلئے ہر شعبہ میں کیمرے نصب کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال شوگر سیکٹر سے 76 ارب، سیمنٹ سیکٹر سے 102 ارب اضافی وصول ہوں گے، ٹائل سیکٹر کے شعبہ میں سیلز ٹیکس کی مد میں سالانہ 30 ارب روپے کی ٹیکس چوری ہورہی ہے جس کے بعد یہ کیمرے لگانے کا فیصلہ کیاہے۔

چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کا کہنا تھا کہ ٹائلز مینوفیکچرر کمپنیوں نے کیمرے نہیں لگانے تو انڈسٹری بند کر دیں، ٹائل مینوفیکچرنگ کمپنیوں میں کیلن، پیکجنگ اور اِن اینڈ آؤٹ پر مانیٹرنگ کیمرا لگائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی مانیٹرنگ کی ٹیکس چوری ایف بی آر کا فیصلہ کہ ٹائلز کہا کہ

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا