Jasarat News:
2026-06-03@07:26:35 GMT

سعودی عرب ‘ 22 ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم گرفتار

اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT

سعودی عرب ‘ 22 ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم گرفتار

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سعودی عرب ‘ 22 ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم گرفتار
ریاض: سعودی حکومت نے گزشتہ ہفتے22 ہزارسے زاید غیر قانونی تارکین کوگرفتار کرلیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق سعودی حکام نے گزشتہ ہفتے اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی خلاف ورزی پر مزید 22 ہزارسے زاید غیر قانونی تارکین کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 14 ہزار 27 افراد کو اقامہ قانون، 4 ہزار 781 کو غیر قانونی سرحدکی عبوری کوشش اور 3 ہزار 348 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا جبکہ اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے 1 ہزار 924 افراد کو بھی زیر حراست میں لیا ہے، جن کی اعداد و شمار کچھ اس طرح ہے کہ62 فیصد ایتھوپین،37 فیصد یمنی اور1 فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں، مجموعی طور پر30 ہزار 236 غیر قانونی تارکین کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان میں 28 ہزار 407 مرد اور1 ہزار829 خواتین بھی شامل ہیں۔
یہ بات بھی علم میں رہے کہ سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا بھی قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر کی جا چکی ہیں۔

محمد ایوب.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: غیر قانونی تارکین

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود