نظامِ مصطفیؐ کا نفاذ ہی مسائل کا دیرپا حل ہے‘ شکیل قاسمی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے پاکستان کے سینئر رہنماملک محمد شکیل قاسمی نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور ملک کو درپیش چیلنجزمعاشی بحران، اخلاقی زوال، سیاسی بے یقینی اور عوامی بے چینی کا واحد دیرپا حل نظامِ مصطفی ﷺ کے حقیقی نفاذ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کے نظام کو قرآن و سنت کی بنیاد پر استوار نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک عوامی مسائل، بدعنوانی اور معاشرتی انتشار کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ملک محمد شکیل قاسمی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کا وجود ہی کلمہ طیبہ کی بنیاد پر رکھا گیا تھا مگر بدقسمتی سے آج تک حقیقی اسلامی نظام کو نافذ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ نظامِ مصطفی ﷺ سے دوری ہی وہ اصل وجہ ہے جس کے باعث ملک میں انصاف، امن، معاشی استحکام اور سماجی عدل کا فقدان نظر آتا ہے۔ انہوں نے ملکی سیاسی و معاشی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی باہمی کشمکش، عوامی مسائل سے لاتعلقی اور اداروں کے درمیان عدم ہم آہنگی نے ریاست کو کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم مایوسی کا شکار ہے اور ایسے ماحول میں مذہبی و سیاسی قیادت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے درست سمت میں قوم کی رہنمائی کرنا ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔