فری لانسرز کی کمائی کی وطن منتقلی میں حائل رکاوٹیں، پاکستان کو لاکھوں ڈالرز کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے اکتوبر 2025 میں ایک نیا سنگِ میل عبور کیا ہے۔ اس ایک مہینے میں برآمدات 384 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اب تک کی سب سے زیادہ ماہانہ برآمدات ہیں۔
ماہرین کے مطابق اکتوبر کی برآمدات پچھلے سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ رہیں، جبکہ ستمبر کے مقابلے میں بھی ان میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ مالی سال کے ابتدائی 4 مہینوں میں مجموعی آئی ٹی برآمدات ایک اعشاریہ 4 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے زیادہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں پے پال سروس شروع کرنے کے لیے حکومت کیا کوشش کررہی ہے؟
ہر چند ماہ بعد وزارتِ اطلاعاتِ ٹیکنالوجی کی جانب سے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی نئی رپورٹس سامنے آتی ہیں، اور یہ بات حقیقت بھی ہے کہ یہ شعبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
گزشتہ ماہ ہونے والا اضافہ بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ ملک کا آئی ٹی شعبہ مسلسل ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ لیکن پاکستان میں باقاعدہ اور مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث زیادہ تر فری لانسرز اور آئی ٹی ماہرین پیونئیر(Payoneer) جیسے تیسرے ذرائع استعمال کرتے ہیں، جس سے ملک کو سالانہ ملین ڈالرز کا نقصان ہوتا ہے۔
حکومت ہر کچھ عرصے بعد آئی ٹی برآمدات میں اضافے کا جشن تو ضرور مناتی ہے، مگر اس کمائی کو ملک میں لانے کے دوران ہونے والی کٹوتیوں اور مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر اور باقاعدہ نظام وضع نہیں کرتی۔
فری لانسرز کو ادائیگی کی رکاوٹیںگزشتہ 10 برس سے فری لانس کرنے والے طاہر عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی پیمنٹ پروسیسنگ سروسز کی محدود دستیابی فری لانسرز اور آئی ٹی برآمدات سے وابستہ افراد کے لیے مسلسل رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
اُن کے مطابق، عالمی سطح پر قابلِ اعتماد سروسز کی عدم موجودگی نہ صرف فری لانسرز کو مالی نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ اس کے باعث ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی پورا نہیں مل پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی اصل آئی ٹی برآمدات کا بڑا حصہ باقاعدہ طریقے سے ملک میں منتقل نہیں ہو پاتا اور قومی خزانہ ملین ڈالرز کی کمی کا سامنا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جرمنی کا فری لانس ویزا کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
طاہر عمر کے مطابق اس وقت پاکستان میں ادائیگیوں کے لیے زیادہ تر انحصار چند محدود کمپنیوں خصوصاً پیونئیر(Payoneer) پر ہے۔ چونکہ مارکیٹ میں مقابلہ نہیں ہے، اس لیے فیسیں زیادہ اور شرائط سخت ہوتی جا رہی ہیں، جس کا براہِ راست بوجھ فری لانسرز پر پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگر زیادہ بین الاقوامی پیمنٹ کمپنیاں پاکستان آئیں تو بہتر نرخ، آسان سہولتیں اور زیادہ شفافیت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف فری لانسرز کو فائدہ ہوگا بلکہ ملک میں زیادہ زرمبادلہ بھی آسکے گا۔
طاہر عمر نے خاص طور پر پے پال کی عدم موجودگی کو ایک بڑا نقصان قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی اور یورپی کلائنٹس زیادہ تر پے پال ہی استعمال کرتے ہیں، اور صرف اس سہولت کے نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو بے شمار فری لانس پراجیکٹس حاصل نہیں ہو پاتے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ملک کو براہِ راست مالی نقصان ہوتا ہے، کیونکہ ادائیگی کا مناسب نظام نہ ہونے کی وجہ سے کثیر رقم پاکستان لائی ہی نہیں جا سکتی۔
ان کے مطابق پے پال اور عالمی سطح کی دیگر کمپنیوں کے پاکستان نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں سائبر قوانین پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوتا اور اداروں کو قانونی تحفظ کا یقین نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں:سوشل میڈیا کی کمائی پر ٹیکس کی خبریں، یوٹیوبرز اور فری لانسرز کیا کہتے ہیں؟
طاہر عمر نے زور دیا کہ اگر پاکستان میں رول آف لا بہتر بنایا جائے، سائبر قوانین کو سختی سے نافذ کیا جائے اور بین الاقوامی کمپنیوں کو اعتماد دیا جائے تو نہ صرف پے پال جیسے ادارے پاکستان آنے پر آمادہ ہوں گے بلکہ آئی ٹی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔
’ایک فعال نظام ملک کو نقصان سے بچا سکتا ہے‘اگر پاکستان ایک فعال اور محفوظ مالیاتی نظام قائم کر دے تو نہ صرف فری لانسرز کا نقصان کم ہوگا بلکہ ملک کو وہ زرمبادلہ بھی مل سکے گا جو آج تھرڈ پارٹی ذرائع کے استعمال کی وجہ سے ضائع ہو رہا ہے۔
طفیل احمد خان، سی ای او پاکستان فری لانس ایسوسی ایشن، کہتے ہیں کہ پاکستانی فری لانسرز کو اپنی بین الاقوامی کمائی واپس پاکستان لانے میں بہت زیادہ مالی بوجھ اور مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق دستیاب ادائیگی کے طریقے محدود ہیں اور جو پلیٹ فارمز موجود ہیں وہ منصفانہ شرائط پیش نہیں کرتے۔
طفیل احمد خان بتاتے ہیں کہ پے پال جیسی عالمی سطح کی معروف ادائیگی کی سہولت پاکستان میں دستیاب نہیں، اور موجودہ متبادل ذرائع پر فری لانسرز کو اضافی فیسیں ادا کرنی پڑتی ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے نہ صرف فری لانسرز کی کمائی متاثر ہوتی ہے بلکہ ملک میں غیر ملکی زرِ مبادلہ کی آمد بھی محدود رہ جاتی ہے، کیونکہ پاکستان کو لاکھوں ڈالرز کا نقصان ہوتا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی ادائیگی کرنے والی مزید کمپنیوں کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دے اور آسان قوانین نافذ کرے، تاکہ فری لانسرز اپنی کمائی بآسانی اور کم خرچ وطن واپس لا سکیں اور ملک کی آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہو۔
اصلاحات ناگزیر ہیںپاکستان کی آئی ٹی صنعت اس وقت ریکارڈ سطح پر برآمدات کر رہی ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ شعبے کی حقیقی ترقی تبھی ممکن ہوگی جب مالیاتی نظام میں ضروری اصلاحات کی جائیں۔
سابق آئی ٹی ایسوسی ایشن کے چیئرمین زوہیب خان کے مطابق اگرچہ برآمدات بڑھ رہی ہیں، لیکن رقم واپس لانے کا موجودہ طریقہ کار ابھی بھی پیچیدہ اور محدود ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا پاکستان میں پے پال لانچ ہونے والا ہے؟
زوہیب خان نے بتایا کہ آئی ٹی کمپنیوں کو اپنی کمائی کا نصف حصہ رکھنے کی اجازت ہے، مگر مکمل طریقہ کار نہ ہونے کی وجہ سے کمپنیوں کو بیرون ملک اخراجات پورا کرنے کے لیے غیر رسمی ذرائع استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ اس سے ادائیگیوں پر معمولی خرچ آتا ہے، جبکہ دیگر غیر رسمی ذرائع زیادہ مہنگے اور پیچیدہ ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فری لانسرز کی کمائی کو بھی آئی ٹی برآمدات میں شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ ملکی ہوم ریمیٹنس میں بڑی رقم آئی ٹی خدمات سے حاصل ہوتی ہے، لیکن موجودہ حساب میں اسے برآمدات کے طور پر شمار نہیں کیا جاتا۔
زوہیب خان کے مطابق اگر مالیاتی اصلاحات کی جائیں اور کمپنیوں کو آسان اور محفوظ نظام مہیا کیا جائے تو اصل آئی ٹی برآمدات سات سے دس ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہیں اور آنے والے چند سالوں میں یہ شعبہ ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گا۔
آئی ٹی برآمدات کی نمو کے عوامل
واضح رہے کہ پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ کی بڑھتی ہوئی ترقی کی کئی وجوہات ہیں۔ پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور دیگر ملکوں میں نئی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے بیرونِ ملک سے آرڈرز میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی معاشی حالات میں کچھ استحکام بھی آیا ہے، جس نے برآمد کرنے والوں کا اعتماد بڑھایا ہے۔
حکومت کی جانب سے دی گئی نئی سہولتوں نے بھی اس شعبے کو مضبوط کیا ہے۔ غیر ملکی کرنسی کے کھاتوں سے کاروباری اخراجات اور سرمایہ کاری میں آسانی ملنے سے کئی کمپنیوں نے اپنی خدمات کو مزید وسیع کیا ہے۔ ایک حالیہ جائزے کے مطابق ملک کی بڑی تعداد میں آئی ٹی کمپنیاں ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
حکومت نے موجودہ مالی سال میں آئی ٹی برآمدات کا ہدف 5 ارب ڈالر رکھا ہے، جبکہ آئندہ برسوں میں اس شعبے کو مزید مضبوط بنانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترقی کی یہ رفتار برقرار رہی تو پاکستان کا آئی ٹی شعبہ آنے والے وقت میں مزید کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جب آئی ٹی منسٹری سے اس حوالے سے مؤقف کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کی جانب سے یہ کہا گیا کہ ان کے پاس فی الحال ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایکسپورٹ بین الاقوامی دائیگی پاکستان پے پال زوہیب خان فری لانسر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایکسپورٹ بین الاقوامی دائیگی پاکستان پے پال زوہیب خان فری لانسر آئی ٹی برآمدات میں نہ صرف فری لانسرز پاکستان کی آئی ٹی فری لانسرز کی فری لانسرز کو کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی یہ بھی پڑھیں پاکستان میں ان کے مطابق کہ پاکستان کمپنیوں کو زوہیب خان کی وجہ سے کا نقصان اضافہ ہو کی کمائی طاہر عمر ملک میں رہی ہیں نہ ہونے ملک کو کے لیے پے پال کیا ہے کہ ملک
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔