پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے اکتوبر 2025 میں ایک نیا سنگِ میل عبور کیا ہے۔ اس ایک مہینے میں برآمدات 384 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اب تک کی سب سے زیادہ ماہانہ برآمدات ہیں۔

ماہرین کے مطابق اکتوبر کی برآمدات پچھلے سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ رہیں، جبکہ ستمبر کے مقابلے میں بھی ان میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ مالی سال کے ابتدائی 4 مہینوں میں مجموعی آئی ٹی برآمدات ایک اعشاریہ 4 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے زیادہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں پے پال سروس شروع کرنے کے لیے حکومت کیا کوشش کررہی ہے؟

ہر چند ماہ بعد وزارتِ اطلاعاتِ ٹیکنالوجی کی جانب سے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی نئی رپورٹس سامنے آتی ہیں، اور یہ بات حقیقت بھی ہے کہ یہ شعبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

گزشتہ ماہ ہونے والا اضافہ بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ ملک کا آئی ٹی شعبہ مسلسل ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ لیکن پاکستان میں باقاعدہ اور مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث زیادہ تر فری لانسرز اور آئی ٹی ماہرین پیونئیر(Payoneer) جیسے تیسرے ذرائع استعمال کرتے ہیں، جس سے ملک کو سالانہ ملین ڈالرز کا نقصان ہوتا ہے۔

حکومت ہر کچھ عرصے بعد آئی ٹی برآمدات میں اضافے کا جشن تو ضرور مناتی ہے، مگر اس کمائی کو ملک میں لانے کے دوران ہونے والی کٹوتیوں اور مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر اور باقاعدہ نظام وضع نہیں کرتی۔

فری لانسرز کو ادائیگی کی رکاوٹیں

گزشتہ 10 برس سے فری لانس کرنے والے طاہر عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی پیمنٹ پروسیسنگ سروسز کی محدود دستیابی فری لانسرز اور آئی ٹی برآمدات سے وابستہ افراد کے لیے مسلسل رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

اُن کے مطابق، عالمی سطح پر قابلِ اعتماد سروسز کی عدم موجودگی نہ صرف فری لانسرز کو مالی نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ اس کے باعث ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی پورا نہیں مل پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی اصل آئی ٹی برآمدات کا بڑا حصہ باقاعدہ طریقے سے ملک میں منتقل نہیں ہو پاتا اور قومی خزانہ ملین ڈالرز کی کمی کا سامنا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جرمنی کا فری لانس ویزا کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟

طاہر عمر کے مطابق اس وقت پاکستان میں ادائیگیوں کے لیے زیادہ تر انحصار چند محدود کمپنیوں خصوصاً پیونئیر(Payoneer) پر ہے۔ چونکہ مارکیٹ میں مقابلہ نہیں ہے، اس لیے فیسیں زیادہ اور شرائط سخت ہوتی جا رہی ہیں، جس کا براہِ راست بوجھ فری لانسرز پر پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر زیادہ بین الاقوامی پیمنٹ کمپنیاں پاکستان آئیں تو بہتر نرخ، آسان سہولتیں اور زیادہ شفافیت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف فری لانسرز کو فائدہ ہوگا بلکہ ملک میں زیادہ زرمبادلہ بھی آسکے گا۔

طاہر عمر نے خاص طور پر پے پال کی عدم موجودگی کو ایک بڑا نقصان قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی اور یورپی کلائنٹس زیادہ تر پے پال ہی استعمال کرتے ہیں، اور صرف اس سہولت کے نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو بے شمار فری لانس پراجیکٹس حاصل نہیں ہو پاتے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ملک کو براہِ راست مالی نقصان ہوتا ہے، کیونکہ ادائیگی کا مناسب نظام نہ ہونے کی وجہ سے کثیر رقم پاکستان لائی ہی نہیں جا سکتی۔

ان کے مطابق پے پال اور عالمی سطح کی دیگر کمپنیوں کے پاکستان نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں سائبر قوانین پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوتا اور اداروں کو قانونی تحفظ کا یقین نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں:سوشل میڈیا کی کمائی پر ٹیکس کی خبریں، یوٹیوبرز اور فری لانسرز کیا کہتے ہیں؟

طاہر عمر نے زور دیا کہ اگر پاکستان میں رول آف لا بہتر بنایا جائے، سائبر قوانین کو سختی سے نافذ کیا جائے اور بین الاقوامی کمپنیوں کو اعتماد دیا جائے تو نہ صرف پے پال جیسے ادارے پاکستان آنے پر آمادہ ہوں گے بلکہ آئی ٹی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔

’ایک فعال نظام ملک کو نقصان سے بچا سکتا ہے‘

اگر پاکستان ایک فعال اور محفوظ مالیاتی نظام قائم کر دے تو نہ صرف فری لانسرز کا نقصان کم ہوگا بلکہ ملک کو وہ زرمبادلہ بھی مل سکے گا جو آج تھرڈ پارٹی ذرائع کے استعمال کی وجہ سے ضائع ہو رہا ہے۔

طفیل احمد خان، سی ای او پاکستان فری لانس ایسوسی ایشن، کہتے ہیں کہ پاکستانی فری لانسرز کو اپنی بین الاقوامی کمائی واپس پاکستان لانے میں بہت زیادہ مالی بوجھ اور مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق دستیاب ادائیگی کے طریقے محدود ہیں اور جو پلیٹ فارمز موجود ہیں وہ منصفانہ شرائط پیش نہیں کرتے۔

آئی ٹی شعبے کے لیے قرضوں پر بینکوں کے لیے رعایتی شرح کا اعلان کیا گیا ہے (فائل فوٹو)

طفیل احمد خان بتاتے ہیں کہ پے پال جیسی عالمی سطح کی معروف ادائیگی کی سہولت پاکستان میں دستیاب نہیں، اور موجودہ متبادل ذرائع پر فری لانسرز کو اضافی فیسیں ادا کرنی پڑتی ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے نہ صرف فری لانسرز کی کمائی متاثر ہوتی ہے بلکہ ملک میں غیر ملکی زرِ مبادلہ کی آمد بھی محدود رہ جاتی ہے، کیونکہ پاکستان کو لاکھوں ڈالرز کا نقصان ہوتا ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی ادائیگی کرنے والی مزید کمپنیوں کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دے اور آسان قوانین نافذ کرے، تاکہ فری لانسرز اپنی کمائی بآسانی اور کم خرچ وطن واپس لا سکیں اور ملک کی آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہو۔

اصلاحات ناگزیر ہیں

پاکستان کی آئی ٹی صنعت اس وقت ریکارڈ سطح پر برآمدات کر رہی ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ شعبے کی حقیقی ترقی تبھی ممکن ہوگی جب مالیاتی نظام میں ضروری اصلاحات کی جائیں۔

سابق آئی ٹی ایسوسی ایشن کے چیئرمین زوہیب خان کے مطابق اگرچہ برآمدات بڑھ رہی ہیں، لیکن رقم واپس لانے کا موجودہ طریقہ کار ابھی بھی پیچیدہ اور محدود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا پاکستان میں پے پال لانچ ہونے والا ہے؟

زوہیب خان نے بتایا کہ آئی ٹی کمپنیوں کو اپنی کمائی کا نصف حصہ رکھنے کی اجازت ہے، مگر مکمل طریقہ کار نہ ہونے کی وجہ سے کمپنیوں کو بیرون ملک اخراجات پورا کرنے کے لیے غیر رسمی ذرائع استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ اس سے ادائیگیوں پر معمولی خرچ آتا ہے، جبکہ دیگر غیر رسمی ذرائع زیادہ مہنگے اور پیچیدہ ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فری لانسرز کی کمائی کو بھی آئی ٹی برآمدات میں شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ ملکی ہوم ریمیٹنس میں بڑی رقم آئی ٹی خدمات سے حاصل ہوتی ہے، لیکن موجودہ حساب میں اسے برآمدات کے طور پر شمار نہیں کیا جاتا۔

زوہیب خان کے مطابق اگر مالیاتی اصلاحات کی جائیں اور کمپنیوں کو آسان اور محفوظ نظام مہیا کیا جائے تو اصل آئی ٹی برآمدات سات سے دس ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہیں اور آنے والے چند سالوں میں یہ شعبہ ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گا۔

آئی ٹی برآمدات کی نمو کے عوامل

واضح رہے کہ پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ کی بڑھتی ہوئی ترقی کی کئی وجوہات ہیں۔ پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور دیگر ملکوں میں نئی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے بیرونِ ملک سے آرڈرز میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی معاشی حالات میں کچھ استحکام بھی آیا ہے، جس نے برآمد کرنے والوں کا اعتماد بڑھایا ہے۔

حکومت کی جانب سے دی گئی نئی سہولتوں نے بھی اس شعبے کو مضبوط کیا ہے۔ غیر ملکی کرنسی کے کھاتوں سے کاروباری اخراجات اور سرمایہ کاری میں آسانی ملنے سے کئی کمپنیوں نے اپنی خدمات کو مزید وسیع کیا ہے۔ ایک حالیہ جائزے کے مطابق ملک کی بڑی تعداد میں آئی ٹی کمپنیاں ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

حکومت نے موجودہ مالی سال میں آئی ٹی برآمدات کا ہدف 5 ارب ڈالر رکھا ہے، جبکہ آئندہ برسوں میں اس شعبے کو مزید مضبوط بنانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترقی کی یہ رفتار برقرار رہی تو پاکستان کا آئی ٹی شعبہ آنے والے وقت میں مزید کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ جب آئی ٹی منسٹری سے اس حوالے سے مؤقف کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کی جانب سے یہ کہا گیا کہ ان کے پاس فی الحال ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایکسپورٹ بین الاقوامی دائیگی پاکستان پے پال زوہیب خان فری لانسر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایکسپورٹ بین الاقوامی دائیگی پاکستان پے پال زوہیب خان فری لانسر آئی ٹی برآمدات میں نہ صرف فری لانسرز پاکستان کی آئی ٹی فری لانسرز کی فری لانسرز کو کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی یہ بھی پڑھیں پاکستان میں ان کے مطابق کہ پاکستان کمپنیوں کو زوہیب خان کی وجہ سے کا نقصان اضافہ ہو کی کمائی طاہر عمر ملک میں رہی ہیں نہ ہونے ملک کو کے لیے پے پال کیا ہے کہ ملک

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف