27ویں آئینی ترمیم: ہائیکورٹ کے 4 ججز کے مستعفی ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ہائیکورٹ کے ججوں کو ان کی مرضی کے بغیر صوبوں کے درمیان منتقل کرنے کا اختیار جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو دینے والی متنازع 27ویں ترمیم کے بعد اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ کم از کم چار ہائیکورٹ ججز ممکنہ طور پر استعفے پر غور کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان چاروں ججوں نے حال ہی میں اپنی ہائیکورٹ کے اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ سے رابطہ کرکے ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی مراعات کی تفصیلی معلومات طلب کی ہیں۔ زبانی طور پر مانگی گئی ان معلومات میں پنشن کے فوائد، ان فوائد کے اجرا کی تاریخیں، باقی ماندہ رخصت (ایکومولیٹڈ لیو بیلنس) اور زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کی موجودہ قیمت شامل ہیں، تاکہ اگر وہ چاہیں تو انہیں خرید سکیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اس اقدام کے بعد جوڈیشل حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ یہ چار ججز — جو مبینہ طور پر 27ویں ترمیم کے بعد ممکنہ ٹرانسفر فہرست میں شامل ہیں — سنجیدگی سے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ نئے صوبے یا علاقے میں تعیناتی قبول کرنے کے بجائے استعفیٰ دینے کا راستہ اختیار کریں۔ ان میں سے دو جج آئندہ ماہ کسی بھی وقت پنشن کے اہل ہو جائیں گے، جس کے باعث ان کے ممکنہ فیصلے سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔