data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ہم سب نے یہ تجربہ کبھی نہ کبھی ضرور کیا ہے، صبح مکمل چارج بیٹری کے ساتھ دن کا آغاز ہوتا ہے، لیکن دوپہر تک اسمارٹ فون سانسیں توڑنے لگتا ہے، ایسے میں ذہن میں پہلا خیال یہی آتا ہے کہ شاید بیٹری میں کوئی خرابی ہے، مگر اکثر معاملہ اتنا سادہ نہیں ہوتا۔

درحقیقت، بیٹری کے اچانک ختم ہونے کے پیچھے اکثر تھرڈ پارٹی ایپس کا ہاتھ ہوتا ہے، جو پسِ پردہ (بیک گراؤنڈ) سرگرم رہتی ہیں اور فون کو سلیپ موڈ میں جانے سے روکتی ہیں۔ اب اس مسئلے کا مستقل حل گوگل نے تلاش کر لیا ہے۔

تکنیکی رپورٹوں کے مطابق گوگل نے اینڈرائیڈ ایپ ڈویلپرز کے لیے ایک نیا بیٹا وائٹلز میٹرک (Vitals Metric) متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، اس فیچر کے تحت گوگل پلے اسٹور صارفین کو خبردار کرے گا کہ کون سی ایپس ان کے فون کی بیٹری ضرورت سے زیادہ خرچ کر رہی ہیں۔

یہ نظام دراصل گوگل کے نئے ٹول “Excessive Partial Wake Locks” پر مبنی ہے، جس کا مقصد ڈویلپرز کو ایسی ایپس بنانے سے روکنا ہے جو فون کی توانائی تیزی سے ختم کر دیتی ہیں، ویک لاک ایک ایسا عمل ہے جس میں کوئی ایپ اسمارٹ فون کو سلیپ موڈ میں جانے سے روکتی ہے تاکہ وہ پس منظر میں اپنا کام جاری رکھ سکے، یہی عمل بیٹری لائف کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔

کمپنی نے بیٹری کے غیر معمولی استعمال کے لیے ایک مخصوص حد بھی مقرر کی ہے۔ تاہم، وہ ایپس جو صارفین کو حقیقی فائدہ پہنچاتی ہیں، جیسے میوزک پلیئرز یا فٹنس ٹریکرز، اس حد سے مستثنیٰ ہوں گی۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اگر کسی ایپ میں بیٹری کے حد سے زیادہ استعمال کا مسئلہ پایا گیا تو پہلے ڈویلپر کو خبردار کیا جائے گا۔ لیکن اگر مسئلہ برقرار رہا تو پھر پلے اسٹور میں اس ایپ پر وارننگ لیبل لگایا جائے گا، یہ لیبل صارفین کو صاف الفاظ میں آگاہ کرے گا کہ یہ ایپ بیک گراؤنڈ سرگرمیوں میں توقعات سے زیادہ بیٹری خرچ کرتی ہے۔”

گوگل کا یہ نیا اقدام نہ صرف صارفین کو اپنے اسمارٹ فون کی بیٹری بچانے میں مدد دے گا بلکہ ایپ ڈویلپرز کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ اب بیٹری کی کارکردگی سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیچر مستقبل میں اینڈرائیڈ صارفین کے لیے ایک بڑا اور خوش آئند اضافہ ثابت ہوگا۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسمارٹ فون صارفین کو سے زیادہ بیٹری کے کے لیے فون کی

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ