کیا پی آئی اے کی نجکاری آئندہ 15 روز میں ہونے والی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے دسمبر کے وسط میں باضابطہ طور پر بولی لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی پی آئی اے نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں مشیر نجکاری محمد علی، سیکریٹری نجکاری اور وزارت کے دیگر حکام شریک ہوئے اور پی آئی اے کی نجکاری پر بریفنگ دی۔
حکام نجکاری کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری پر تیزی سے پیشرفت جاری ہے اور چاروں پری کوالیفائیڈ کنسورشیم کے کمنٹس موصول ہو چکے ہیں۔ اس سلسلے میں پری بڈنگ میٹنگز کا تیسرا راؤنڈ بھی منعقد ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیے: پی آئی اے کی نجکاری میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی فاروق ستار نے پی آئی اے ملازمین کے مستقبل سے متعلق تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے تجویز دی کہ نجکاری کے بعد ملازمین کو کم از کم 5 سال کا وقت اور ملازمت کا تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔
وزارت نجکاری کے حکام نے بتایا کہ خریدار کنسورشیم کو 35 سے 40 نئے جہاز شامل کرنا ہوں گے اور جب فلیٹ کی تعداد تقریباً دگنی ہوگی تو اضافی اسٹاف کی بھی ضرورت پڑے گی۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے کو برطانیہ کے لیے آپریٹنگ پرمٹ مل گیا، پروازیں کب شروع ہوں گی؟
سیکریٹری نجکاری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ نجکاری کے لیے ریفرنس پرائس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔ چاروں پری کوالیفائیڈ بڈرز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں جبکہ پی آئی اے کے بیڑے کو موجودہ 18 طیاروں سے بڑھا کر 35 سے 38 تک بنانا ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پی آئی اے کی تباہی کا الزام، غلام سرور خان اپنے دفاع کے لیے تیار
حکام کے مطابق تمام تیاریاں مکمل ہیں اور دسمبر کے وسط میں بولی کا عمل شروع کر دیا جائے گا، جو پی آئی اے کی بحالی اور سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی آئی اے پی آئی اے کی نجکاری پی آئی اے نجکاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ا ئی اے پی ا ئی اے کی نجکاری پی ا ئی اے نجکاری ئی اے کی نجکاری پی آئی اے کی پی ا ئی اے نجکاری کے کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔