بیرونی سرمایہ کاری سے پہلے خود ملک میں سرمایہ کاری کرنا ہو گی: ہارون اختر
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے معاونِ خصوصی ہارون اختر—فائل فوٹو
وزیرِ اعظم شہباز شریف کے معاونِ خصوصی ہارون اختر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بیرونی سرمایہ کاری سے پہلے خود اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔
یہ بات انہوں نے پاکستان بزنس کونسل کے ڈائیلاگ آن اکانومی سیشن میں شرکت کے موقع پر اپنے خطاب میں کہی۔
وزیرِاعظم شہباز شریف کے معاونِ خصوصی برائے انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن ہارون اختر خان نے ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس کا دورہ کیا ہے۔
ہارون اختر نے کہا ہے کہ روزگار کے مواقع کے لیے تیز رفتار معاشی ترقی ضروری ہے، صنعتی ترقی کے بغیر کوئی ملک خوش حال نہیں ہو سکتا، برآمدات کی رفتار درآمدات سے زیادہ ہونی چاہیے، ورنہ تجارتی خسارہ بڑھتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ برآمدات بڑھانے کے لیے مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہو گا، اس وقت درآمدات برآمدات سے زیادہ ہیں جس سے معیشت دباؤ کا شکار ہے، ایف بی آر نے اصلاحات میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔
معاونِ خصوصی ہارون اختر کا کہنا ہے کہ پاکستان خود اپنی قوت سے ترقی کر سکتا ہے، آئی ایم ایف کے سامنے صنعتی پالیسی میں ٹیکس پیکیج پیش کیا جائے گا، آنے والے اصلاحاتی اقدامات پائیدار معاشی ترقی کے لیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری ہارون اختر
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔