آزاد کشمیر کی 20 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا 18 وزرا اور 2 مشیر شامل
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
مظفرآباد(آئی این پی )آزاد جموں و کشمیر کی 20 رکنی نئی کابینہ نے ایوان صدر مظفر آباد میں حلف اٹھا لیا۔سپیکر قانون ساز اسمبلی چودھری لطیف اکبر نے نئی کابینہ سے حلف لیا، حلف اٹھانے والوں میں 18 وزرا اور 2 مشیر شامل ہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور بھی حلف برداری تقریب میں شریک ہوئے۔تقریب میں سردار فہیم ربانی، چودھری اخلاق، یاسر سلطان، سردار محمد حسین، نبیلہ ایوب، چودھری رشید، چودھری ارشد، جاوید بڈھانوی، جاوید ایوب، قاسم مجید، رفیق نیئر، دیوان چغتائی، ملک ظفر، ضیا القمر، عامر یاسین ، بازل نقوی، میاں عبد الوحید اور علی شان سونی نے بطور وزرا حلف اٹھایا۔آزاد کشمیر حکومت کے 2 مشیروں نے بھی اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ وزیراعظم نے مشیروں سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ذرائع کے مطابق نئی کابینہ کی تشکیل سے حکومت کو مضبوط استحکام حاصل ہوگا اور آئندہ اقدامات کیلئے ٹیم مکمل ہو جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔