آزاد کشمیر کی 20 رکنی نئی کابینہ آج حلف اٹھائے گی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
آزاد جموں و کشمیر کی 20 رکنی نئی کابینہ آج ایوانِ صدر مظفرآباد میں حلف اٹھائے گی۔ نومنتخب وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور حلف برداری کی اس تقریب میں شرکت کریں گے۔
سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق کی کابینہ میں وزیر قانون کے طور پر ذمہ داریاں نبھانے والے میاں عبدالوحید کو نئی کابینہ میں سینیئر وزیر کا منصب دیا جائے گا۔ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے بنائی گئی کابینہ میں 18 وزرا اور 2 مشیر شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر کے نئے نامزد وزیراعظم راجا فیصل ممتاز راٹھور کون ہیں؟
سرکاری ذرائع کے مطابق قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر وزرا سے حلف لیں گے، جب کہ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات سردار جاوید ایوب نے بھی کابینہ کی تشکیل اور حلف برداری کی آج کی تاریخ کی تصدیق کر دی ہے۔
اس سے قبل مشاورتی مراحل مکمل نہ ہونے پر کابینہ کی حلف برداری گزشتہ روز مؤخر کر دی گئی تھی۔ ابتدائی تجویز میں صرف 10 وزرا شامل کرنے کا فیصلہ رکھا گیا تھا، لیکن یہ تجویز اسمبلی اراکین نے مسترد کر دی، جس کے بعد گزشتہ دو روز سے مسلسل مشاورت کا عمل جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: نومنتخب وزیراعظم نے حلف اٹھا لیا، پی پی نے عوام کے ساتھ رشتہ دوبارہ جوڑنے کی ذمہ داری اٹھائی، فیصل راٹھور
مشاورت کی قیادت پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور اور نومنتخب وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کر رہے تھے۔ وزرا کی فہرست اور محکموں پر اتفاق رائے کے بعد آج حلف برداری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حلف اٹھانے کے بعد وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کابینہ کے ارکان کو محکمے الاٹ کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر حلف برداری کابینہ وزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حلف برداری کابینہ فیصل ممتاز راٹھور حلف برداری
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔