data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک کو باضابطہ طور پر تیز کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر منگل کو پی ٹی آئی کے تمام منتخب اراکین اسمبلی اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کریں گے جبکہ 27 دسمبر کو پشاور میں بڑا جلسہ منعقد کیا جائے گا۔

پشاور میں منعقدہ دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کا دن ان کے لیے نہایت دکھ اور غم کا باعث ہے کیونکہ گزشتہ واقعات میں پرامن کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر گولیاں چلائی گئیں، پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف طاقت کا استعمال کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس تسلسل نے واضح کر دیا ہے کہ کچھ طاقتور حلقے عوام کو محض بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں اور انہیں اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے روکنا چاہتے ہیں۔

سہیل آفریدی نے عدلیہ کی موجودہ صورتحال پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ عدلیہ کو عملاً مفلوج کردیا گیا ہے تاکہ آئین و قانون کی بالادستی کمزور ہو، 9 مئی اور 26 نومبر جیسے واقعات گزر بھی جائیں مگر ان کی قربانیاں ضائع نہیں ہونے دی جائیں گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ہر رکن اسمبلی جس نے عمران خان کا ٹکٹ لے کر انتخابات میں حصہ لیا، اسے ہر صورت منگل کے روز اسلام آباد پہنچ کر احتجاج میں شامل ہونا چاہیے، اور جو موجود نہ ہوگا اسے پارٹی اور کارکنوں کی طرف سے ملامت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ خود بھی ہر جمعرات اڈیالہ جیل جائیں گے اور عمران خان سے ملاقات تک یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا، 7 دسمبر کو پشاور میں جلسہ ہوگا، جس میں کارکنوں کی بڑی تعداد شرکت کرے گی،ہم جانتے ہیں کہ ہمارے خلاف کیا منصوبے بن رہے ہیں، لیکن اس بار ہم کسی کو کارکنوں پر گولیاں چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پشاور میں

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف