ہم اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام چاہتے ہیں،سینیٹرمولانا عطا الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
صوابی (آئی این پی )جے یو آئی خیبر پختونخوا کے امیر سینیٹر مولانا عطا الرحمن نے صوبہ بھر کے کارکنوں اور تنظیموں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جماعت کے اندر توڑ کے بجائے جوڑ کا سبب بن کر ایک دوسرے کے لیے اپنے دلوں کو صاف کرکے پیار ومحبت کا مظاہرہ کریں، دارالعلوم رشیدیہ ٹھنڈ کوئی ضلع صوابی میں ضلعی و تحصیل عہدیداران اور کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمعہ 12 دسمبر کو مردان میں ہونے والی کانفرنس تاریخ ساز ثابت ہو گی جس سے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن خصوصی خطاب کریں گے، جے یو آئی کی سیاست کا مقصد اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کا نفاذ ہے اس لئے ہم سب کو عہدوں کے حوالے بعض ، حسد اور کینہ سے نکلنا ہو گا اس سے ہم نیک مقاصد اور مشن حاصل نہیں کر سکتے ہیں بلکہ یہ احساس پیدا کرکے ہم سب کو مل کر اس اجتماعی عمل کو آگے بڑھنا ہوگا، کیونکہ ہم سب نے صرف اور صرف اللہ تعالی کی رضا ،دین اسلام کی سربلندی ، ملک میں نظام شریعت کے نفاذ اور ملک میں غیر شرعی اقدامات کی روک تھام کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی ہے اور اس میں ہماری دونوں جہانوں کا فائدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر کارکن یہ تاثر دے رہے ہیں کہ فلاں کو عہدہ ملا ، فلاں ایم این اے ، سینیٹر اور ایم پی اے بن گیا ، میں کیوں نہیں اور ہم کچھ نہیں بنے ۔انہوں نے کہا کہ یہ تعصب ، بغض ، حسد اور کینہ کی باتیں جماعت کے اندر باعث نفرت بنتی ہے ، اس قسم کے باعث نفرت باتوں سے اللہ بھی ناراض ہوجاتا ہے اس لیے دلوں سے یہ میل نکال کر ہمیں پیار ومحبت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا عطا الحق درویش نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کی صوبے میں بدترین کرپشن ، بے روزگاری ، بدامنی اور مہنگائی سے عوام ان سے مایوس ہو چکے ہیں اور ان کی نظریں جے یو آئی پر لگی ہوئی ہیں ، کیونکہ عوام اپنے آپ کو لاوارث اور غیر محفوظ سمجھتے ہیں کرپشن کے جو نت نئے طریقے ایجاد کرکے سامنے آرہے ہیں یہ پہلے سنے تھے نہ ہی دیکھے تھے 27 ترمیم عوام کے مفاد میں نہیں ہے اس کے ذریعے حقوق نسواں ، تحفظ ختم نبوت ، ناموس رسالت اور دیگر بلوں کے خلاف شازش کی جارہی ہے لیکن عوام ان سازشوں سے بیدار رہیں یہ وقت سونے کا نہیں ہے ہم ایوانوں کے اندر تمام سازشوں کو ناکام بنادیں گے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔