پیپلز پارٹی کی منفرد پالیسی
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ نے کہا ہے کہ ریاستی ادارے نقصان میں ہیں اور پیپلز پارٹی کی پالیسی کے باعث نجکاری کا عمل آگے نہیں بڑھ رہا۔ پیپلز پارٹی نجکاری کے خلاف ہے اگر پی پی کو ناراض کیا جائے گا تو حکومت نہیں رہے گی۔
وفاقی وزیر کے اس بیان سے نقصان میں جانے والے سرکاری اداروں کی نجکاری میں رکاوٹ اور تاخیر کی وجوہات سامنے آگئی ہیں اور واضح ہو گیا ہے کہ موجودہ حکومت جس میں پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ پی پی موجودہ حکومت میں شامل نہیں ہے اور اس کی صرف حمایت کرتی ہے اور وہ حکومت کی نجکاری پالیسی کی بھی مخالف ہے اور اپنے منشور کے خلاف وہ مسلم لیگ (ن) کے کسی فیصلے کی کبھی حمایت نہیں کرے گی اور اپنی ہی پالیسی پر چلے گی اور وہ حکومت کا فیصلہ ماننے کی پابند نہیں ہے۔
2008میں جب پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کو ساتھ ملا کر اپنی حکومت بنائی تھی جس کے بعد صدارتی انتخاب جنرل پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد ہوا تھا، اس میں وزارت عظمیٰ کے ساتھ ملک کی صدارت بھی اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر (ن) لیگ نے اختلاف کیا تھا اور وہ دونوں بڑے عہدے پی پی کو دینے کی حامی نہیں تھی اور شاید یہ عہدہ خود لینا چاہتی تھی مگر ایم کیو ایم نے آصف زرداری کو بطور صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا جن کے مقابلے میں (ن) لیگ نے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا مگر آصف زرداری خود کو صدر مملکت منتخب کرانے میں کامیاب ہو گئے تھے جس کے بعد انھوں نے میاں نواز شریف سے ججز بحالی کا جو معاہدہ کیا تھا، انھوں نے ججز کی بحالی سے انکار کر دیا تھا ۔
ججز بحالی نہ ہونے پر (ن) لیگ حکومت سے الگ ہوگئی تھی اور نواز شریف نے بحالی نہ ہونے پر تحریک کا اعلان کر کے لانگ مارچ شروع کر دیا تھا۔ کامیاب لانگ مارچ ابھی گجرانوالہ ہی پہنچا تھا کہ حالات کے باعث بعض قوتوں کو مداخلت کرنا پڑی اور وزیر اعظم گیلانی نے رات گئے ججز بحالی کا اعلان کیا ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے لندن میں میاں نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت کیا تھا، اس پر عمل کرتے ہوئے پی پی حکومت سے شدید اختلاف کے باوجود پہلی بار پی پی حکومت کے خلاف تحریک نہیں چلائی تھی اور پی پی حکومت نے پہلی بار مدت پوری کی تھی۔
پنجاب میں شہباز حکومت تھی جو صدر زرداری نے گورنر راج لگا کر ختم بھی کی تھی مگر عدالت عالیہ نے (ن) لیگی حکومت بحال کر دی تھی۔
2013 میں پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد دھرنے کے موقع پر نواز شریف کی حکومت کا ساتھ دیا تھا جس سے جمہوریت مستحکم ہوئی اور (ن) لیگی حکومت نے بھی پہلی بار اپنی مقررہ مدت پوری کی تھی اور (ن) لیگ اور پی پی کے شدید مخالف بانی تحریک انصاف 2018 میں اقتدار میں لائے گئے مگر اپنی غلط پالیسی کے باعث وہ اپریل 2022 میں انھیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے آئینی طور پر تحریک عدم اعتماد کے ذریعے برطرف کر دیا تھاجو ملک میں پہلی آئینی برطرفی تھی۔ 2008 کے بعد سے باہمی سیاسی مخالفت کے باوجود پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے اپنے اختلافات کو انتہا تک نہیں پہنچایا مگر 2017 میں پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ضرور ختم کرائی تھی اور چیئرمین سینیٹ مسلم لیگ کا نہیں آنے دیا تھا۔
بے نظیر بھٹو کے بعد آصف زرداری کی پالیسی کے باعث سندھ میں (ن) لیگ کو شدید نقصان بھی نواز شریف حکومت میں ہوا مگر دونوں پارٹیوں نے اپنی اپنی پالیسیوں پر عمل جاری رکھا اور باہمی اختلاف کو سیاسی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ آصف زرداری نے اپنی مفاہمانہ پالیسی کے تحت سندھ میں پیپلز پارٹی کو جو انتخابی کامیابی دلائی وہ نیا ریکارڈ ہے۔ بھٹو صاحب اور بے نظیر بھٹو کے دور میں بھی پیپلز پارٹی کو اتنی کامیابی نہیں ملی تھی جس کی وجہ سے سندھ میں 17 سال سے پی پی کی حکومت ہے۔
بھٹو حکومت میں ملک بھر میں ہزاروں چھوٹے بڑے نجی ادارے قومی تحویل میں لے کر قومی خزانے پر بوجھ بڑھایا گیا تھا جن میں جھوٹے چھوٹے چاول صاف کرنے کے کارخانے بھی شامل تھے جس سے بے حد کرپشن ہوئی تھی۔ پی پی کا موقف ہے کہ اس کے منشور میں لوگوں کو روزگار فراہم کرنا شامل ہے جس کے تحت وہ اپنے لوگوں کو اندھا دھند نوازتی ہے جس سے ہر سرکاری ادارے میں مقررہ تعداد سے زیادہ لوگ ملازمت حاصل کر لیتے ہیں جس کی ایک واضح مثال سندھ کے بلدیاتی ادارے ہیں جہاں یوسی تک میں اضافی عملہ موجود ہے اور ان کا بجٹ تنخواہوں میں خرچ ہو جاتا ہے اور تعمیری کاموں کے لیے رقم نہیں بچتی تو ترقیاتی کام کہاں سے ہوں اس کی پی پی کبھی فکر نہیں کرتی وہ صرف روزگار دینے پر یقین رکھتی ہے جب کہ (ن) لیگ کی پالیسی پی پی سے یکسر مختلف ہے۔
بے نظیر کی شہادت کے بعد پی پی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا تھا جس کا بجٹ پی پی پی نے (ن) لیگی حکومت سے ہر بار بڑھوایا جب کہ اس پروگرام سے غریبوں کو کم اور سرکاری افسروں و ملازموں کو زیادہ فائدہ ہوا اور کرپٹ افسروں نے اپنی بیگمات تک کو اس پروگرام سے مالی فائدہ پہنچایا اور زبردست کرپشن ہوئی۔اسٹیل ملز سالوں سے بند ہے۔ پی آئی اے اور دیگر ریاستی اداروں میں بے انتہا فاضل عملے نے ان اداروں کو مالی طور پر تباہ کر دیا ہے۔
(ن) لیگی حکومت نقصان میں جانے والے ریاستی اداروں کی نجکاری چاہتی ہے جو پیپلز پارٹی نہیں ہونے دے رہی بلکہ دباؤ ڈال کر (ن) لیگی حکومت سے ایسے فیصلے کرا لیتی ہے جو اس کے منشور کے بھی خلاف ہے مگر مجبور ہے کیونکہ ماضی کے مقابلے میں (ن) لیگی حکومت پی پی کی حمایت سے قائم ہے جو پی پی کو ناراض کرنے کی متحمل نہیں ہو رہی اور اقتدار میں رہنے کے لیے پی پی کی مکمل محتاج ہے اور سیاسی و ذاتی مفاد کے لیے دونوں بڑی پارٹیوں کو قومی مفاد کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اپنے ذاتی اور پارٹی کے سیاسی مفاد کو سب سے زیادہ ترجیح دیتی ہے اور اسی لیے نقصان میں جانے والے ریاستی اداروں کی نجکاری نہیں ہونے دے رہی جو قومی خزانے پر سفید ہاتھی بنے ہوئے ہیں مگر پی پی اپنے سیاسی مفاد کے لیے اپنی پالیسی پر چل رہی ہے اور اسے قومی نقصان کی کوئی فکر نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں پیپلز پارٹی پیپلز پارٹی نے پی پی حکومت لیگی حکومت نواز شریف پالیسی کے کی نجکاری حکومت سے مسلم لیگ نہیں ہے نہیں ہو کے باعث کیا تھا دیا تھا تھی اور کے لیے اور پی ہے اور کر دیا کے بعد
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔