Jasarat News:
2026-07-24@07:06:53 GMT

عدالت عظمیٰ اور 27 ویں ترمیم کے AM اور PM سیاپے

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

(1)

رات خواب دیکھا کہ ایک پاکستانی عدالت میں کسی غریب کا مقدمہ پیش ہے۔ بنا کسی تگڑے وکیل، بغیر رشوت، جج نے ایک دو پیشیوں میں ہی انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق فیصلہ سنا دیا۔ اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعض خواب جھوٹے ہی نہیں بہت جھوٹے ہوتے ہیں۔ جہاں جج بڑے ہوں اور انصاف چھوٹا وہاں فیصلے عدل کے اعتبار سے مسخ، ننگے اور شرمناک ہوتے ہیں ایسے میں اقتدار کے ایوانوں میں بے ایمانی اور طاقتور سے عقیدت وبا کی طرح پھیلتی ہے۔ کرپشن اور بے انصافی عدالتوں کو جعلی تحفظ عطا کرتی ہے اور اس تحفظ کے زعم میں وہ طاقت کے اصل مراکز سے جا ٹکراتی ہیں جو فرصت ملتے ہی انہیں اوقات میں لے آتے ہیں۔ 27 ویں ترمیم میں اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا گیا ہے جیسا فرقہ وارانہ فساد میں مخالف فرقے کے ساتھ۔

ججوں کے دین ومذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا، دیر میں بیٹھا کب کا ترک انصاف کیا

یہ محترم جج صاحبان کا ہنر ہی تھا کہ جنرل ضیاء الحق کے بعد جب عدالت ’’عظمیٰ‘‘ محمد خان جونیجو مرحوم کی اسمبلی بحال کرنے کی طرف مائل تھی کہ جنرل مرزا اسلم بیگ نے ججوں کو یہ پیغام بھجوایا تھا کہ ’’جونیجوکے حق میں فیصلہ انہیں بالکل پسند نہیں آئے گا‘‘ ہمارے جج صاحبان نے اس سادہ سی مداخلت کے سامنے بھی بصد ادب انصاف کو ڈمپر سے کچلوا دیا۔ اور اس سے پہلے پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کا جوڈیشل مرڈر۔۔ عدالتی قتل۔۔۔ Bhutto,s Murder Case Revisited بطور حوالہ استعمال ہونے والے ان ریسرچ پیپر میں جسٹس نسیم حسن شاہ سے یہ منسوب ہے کہ ’’بینچ کے ججوں نے آپس میں مشاورت کی تھی اور انہیں خدشہ تھا کہ اگر بھٹو کو عمر قید مل جائے تو وہ پھر طاقتور ہوکر واپس آسکتا ہے اور بینچ کے ان ججوں کو خطرہ ہوسکتا ہے‘‘ مزید یہ کہ ’’بینچ کے ارکان نے فیصلہ کرنے میں اپنی ذاتی حفاظت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا‘‘ جسٹس نسیم حسن شاہ نے کئی انٹرویوز میں یہ اعتراف کیا تھا کہ (بھٹو کا) فیصلہ اس ماحول میں ہوا جہاں دبائو، خوف اور سیا سی مصلحتیں عدالت عظمیٰ کے ایوان سے ٹکرا رہی تھیں۔

عدل اک میر بھاری پتھر ہے
کب یہ بے کس ججوں سے اٹھتا ہے

عدالت عظمیٰ کے جج افتخار چودھری جنہیں بڑی منتوں اور مرادوں سے بحال کروایا گیا تھا انہوں نے پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سوئس حکام کو خط لکھنے کا حکم دیا تھا کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ کا کیس دوبارہ کھولا جائے۔ جب کہ آئین کا آرٹیکل 248 صدر کو ایسی کارروائی سے استثنیٰ دیتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا موقف تھا ’’ہم خط لکھنے کا حکم صدر آصف علی زرداری کے خلاف نہیں ریاستی ذمے داری کے تحت دے رہے ہیں‘‘ وہ نہ مانے۔ آخرکا عدالت عظمیٰ نے انہیں توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت نااہل قرار دے دیا۔ تاہم آئینی ماہرین کے ایک بڑے طبقے کا آج بھی کہنا ہے کہ فیصلہ بے جواز طور پر سخت تھا اور 248 کا سیاق غلط پڑھا گیا۔

2017-18 میں جسٹس ثاقب نثار نے پاناما کیس جس میں نوازشریف کا نام بھی نہیں تھا اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی پاداش میں یہ فیصلہ دیتے ہوئے کہ ’’وہ اخلاقی اور قانونی حدود میں نہیں رہے اور پارٹی صدارت یا تنخواہ لینے کے معاملات میں شفاف نہیں رہے‘‘ نا اہل قرار دے دیا۔ حالانکہ نواز شریف کا نام براہ راست حکم نامے میں شامل نہیں تھا۔ عدالت نے پارٹی یا سرکاری عملے کو اقدامات کرنے کا حکم دیا لیکن نواز شریف کا نام کسی حتمی سزا، پا بندی یا برطرفی کے لیے نہیں دیا گیا۔ بعد میں ثاقب نثارکے فیصلے کے ذریعے پارٹی صدارت یا حکومتی عہدے سے ہٹانے کی کارروائی کی گئی۔ حالانکہ پارٹی کی صدارت سے ہٹانا پارٹی کا اندرونی معاملہ ہوتا ہے نہ کہ عدالت عظمیٰ کا۔ قانونی ماہرین، سیاسی مبصرین اور مورخین نے اس فیصلے کو آئینی، قانونی اور سیاسی لحاظ سے متنازع، غلط اور عدلیہ کے فعال کردار کا غلط استعمال قرار دیا گیا۔

مرحوم جونیجو، ذوالفقار علی بھٹو، یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کے معاملے میں اس selective judicial activism کی مثالوں کے بعد اب دیکھیے عمران خان کے باب میں عدالت عظمیٰ کے ججوں کی جانبداری، مخصوص گروہ پرستی اور فریق پرستی۔ 2017-18 ہی میں عمران خان کی تحریک انصاف کی صدارت کے دوران اثاثوں، آمدنی اور جائداد کے حوالے سے جب معاملات عدلیہ کے نوٹس میں آئے جس کی صدارت ثاقب نثار کررہے تھے تو عمران خان بنی گالاکے اثاثے اور دیگر مالی کاغذات پیش کرنے اور مکمل دستاویزات دکھانے میں ناکام رہے اس کے باوجود ثاقب نثار نے فیصلہ دیا کہ عمران خان صادق اور امین ہیں اور آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت پارلیمان کے لیے اہل ہیں۔ نواز شریف مکمل کاغذات دکھانے پر نااہل اور عمران خان نامکمل کاغذات دکھانے پر صادق اور امین۔ یا للعجب۔ اس کے بعد ثاقب نثار جس طرح جیلوں، اسپتالوں اور منرل واٹرز پلانٹس کے معائنوں پر نکلے، ڈیم بنانے میں مصروف ہوئے، خاندانی منصوبہ بندی کے جلسے میں شریک ہوئے، پی ٹی آئی کا ٹکٹ دلوانے کے لیے رقم کی وصولی میں ملوث پائے گئے۔۔۔ وہ اتنے کریہہ الصوت، کریہہ الصورت مناظر تھے دنیا کا کوئی جج جن کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

25 مئی 2022 چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ نے پی ٹی آئی کو آزادی مارچ ڈی چوک کے بجائے سیکٹر G-9 میں کرنے کا حکم دیا لیکن عمران خان نے اپنے حامیوں کو ڈی چوک پہنچنے کا کہا جو عدالتی حکم کی خلاف ورزی تھی لیکن عدالت نے کوئی سزا دینا یا جرمانہ کرنا تو درکنار آنکھ اُٹھاکر نہیں دیکھا۔ نومبر 2024 میں بھی یہی عمل دہرایا گیا۔ اس مرتبہ بھی منہ دوسری طرف کرلیا گیا اس کے بعد آڈیو لیکس موج در موج سامنے آئیں جن میں سے ایک میں بندیال کی ساس مہ جبین نون اور خواجہ طارق رحیم کی بیوی رفیعہ طارق کی عمران خان کو عدالتی ریلیف نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں پوسٹر لگے تھے Mother-in-law is not the law

اس زمانے میں لوگ عدالتی بینچ کو دیکھتے ہی فیصلے کے بارے میں بتادیا کرتے تھے کہ وہ عمران خان کے حق میں ہوگا اگر وہ ٭ چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٭ جسٹس اعجازالاحسن اور ٭ جسٹس منیب اختر پر مشتمل ہوتا تھا۔ یہ ’’لائک مائنڈڈ جج‘‘ کہلاتے تھے۔ یہ جج متعدد مقدمات میں ایک ساتھ بیٹھتے۔ جیسے 2023 میں پنجاب اور پختون خوا میں 90 دنوں میں انتخابات کا حکم جو تحریک انصاف کے فیور میں تھا یا پھر 2024 میں محفوظ نشستوں کا کیس جس میں 8 ججوں (بشمول جسٹس منیب اختر اور جسٹس اطہر من اللہ) نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا۔ گیارہ مئی 2023 کو جب عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں گرفتار کرکے پیش کیا گیا تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے انہیں دیکھ کر کہا ’’گڈ ٹوسی یو‘‘ اس پر تنقید کی گئی تو ان کا جواب تھا یہ انہوں نے احترام اور شائستگی کے اعتبار سے کہا۔ یہ ہے ہماری عدالت ’’عظمیٰ‘‘ کا وہ شاندار ماضی ہزاروں سال جس کی بے نوری پر نرگس روتی رہے گی۔
(جاری ہے)

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عدالت عظمی نواز شریف کا حکم کے بعد تھا کہ

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی