آمرانہ قوتوں کا اتحادی بھارت اسٹریٹجک فوائد کے لیے عوامی مفاد اور جمہوری اقدار کو کس طرح فراموش کرتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد جنہیں ڈھاکہ میں قائم ایک خصوصی ٹربیونل نے انسانیت کے خلاف جرائم کی بنیاد پر 17 نومبر کو پھانسی کی سزا سنائی تھی، اِس وقت بھارت میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت اور بنگلہ دیش نے 2013 میں ملزمان کی دوطرفہ حوالگی کے ضِمن میں ایکسٹراڈیشن معاہدے پر دستخط کیے تھے اور اُس معاہدے کے تحت بھارت کا فرض ہے کہ وہ سزا یافتہ حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے۔
آمرانہ قوتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ بھارت کی خارجہ پالیسیبھارت پچھلے طویل عرصے سے دنیا بھر میں آمرانہ قوتوں کے ساتھ اپنے گٹھ جوڑ کو مضبوط بنا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کے ضِمن میں جب عوام نے بھارت کے ساتھ قریبی مراسم کی حامل حسینہ واجد کی آمرانہ حکومت کو ختم کیا تو بھارت نے حسینہ واجد، اُن کے اہلِ خانہ اور قریبی رفقا کو اپنے ہاں پناہ دی۔ بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے مطالبے کے باوجود حسینہ واجد کو اُن کے ملک کے حوالے نہیں کیا گیا۔
افغانستان میں بھارت ایک ایسی طاقت کے ساتھ اپنے راہ و رسم مضبوط کر رہا ہے جسے دنیا بھر میں خواتین کے حقوق سلب کرنے اور ایک آمرانہ نظامِ حکومت قائم کرنے پر مطعون کیا جاتا ہے۔ طالبان رجیم جو کسی جمہوری انتظام کے تحت برسرِاقتدار نہیں آئی اور جو افغانستان میں بسنے والی تمام اقوام کی نمائندہ حکومت بھی نہیں ہے، بھارت اُس کے ساتھ اچھے مراسم رکھتا ہے۔
میانمار اور روہنگیا مسلمان2017 میں جب میانمار کی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کیے اور 6 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش پناہ لینے پر مجبور کیا تو بھارت نے اُس وقت میانمار کی فوجی حکومت کا ساتھ دیا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی فضائیہ: باتوں کے غبارے، ناکامی کی مسکراہٹ
یہ تعاون اس لیے ہوا کیونکہ میانمار کے اندرونی بحران اور فوجی طاقت بھارت کو اقتصادی اور علاقائی لحاظ سے ایک اہم شراکت دار بنانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
سری لنکابھارت اور سری لنکا کے تعلقات میں کئی مواقع ایسے آئے جب بھارت نے جمہوری اصولوں اور مقامی عوامی مفادات کے بجائے اپنے اسٹریٹجک مقاصد کو ترجیح دیتے ہوئے آمرانہ قوتوں کا ساتھ دیا، جس کی نمایاں مثال مہندا اور گوتابایا راجاپکسے کی حکومتوں کی وہ مدت ہے جس کے دوران سری لنکا میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، عدلیہ پر دباؤ اور سیاسی مخالفین کے خلاف سخت اقدامات معمول تھے، مگر بھارت نے چین کے اثر کو روکنے کے لیے ان حکومتوں کے ساتھ سیکیورٹی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور سرمایہ کاری کو مضبوط رکھا۔
اسی طرح 2009 میں تامل شہریوں کے خلاف سخت فوجی آپریشن کے دوران بھارت نے سری لنکا کو فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس سپورٹ اور سفارتی تحفظ فراہم کیا، جس سے حکومت کی طاقت تو بڑھی لیکن مقامی آبادی شدید متاثر ہوئی، اور بھارت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر دباؤ بڑھانے کے بجائے بین الاقوامی سطح پر سری لنکن حکومت کو کور مہیا کیا تاکہ ملک چین کے مکمل اثر میں نہ چلا جائے۔
نیپال اور ماؤنوازنیپال میں بھارت کا کردار بارہا ایسے رویّے کی نشاندہی کرتا ہے جس میں وہ عوامی جمہوری مطالبات کے بجائے اُن قوتوں کو ترجیح دیتا رہا جو اس کے لیے زیادہ زیرِ اثر یا کنٹرول میں رہیں۔ دہائیوں تک بھارت نے نیپالی بادشاہت کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھے، حالانکہ شاہی نظام عوامی نمائندگی سے محروم اور مکمل طور پر مرکزیت پسند تھا جسے بھارت نے سیکیورٹی تعاون، معاشی سہارا اور سفارتی تحفظ فراہم کیا۔
2005 میں بادشاہ گیانندرا کی جانب سے منتخب حکومت برطرف کرنے، ایمرجنسی نافذ کرنے، آئین کو معطل کرنے اور میڈیا پابندیوں جیسے واضح آمرانہ اقدامات پر بھارت نے ابتدا میں سخت ردعمل دینے سے گریز کیا اور ’استحکام و گفتگو‘ کی محتاط پالیسی اپنائی، جسے بادشاہ کے لیے بھارت کی خاموش تائید سمجھا گیا کیونکہ بھارت اُس وقت ماؤنوازوں کے بڑھتے اثر کو روکنے کے لیے شاہی نظام کو ایک متوازن قوت تصور کرتا تھا۔ بعد ازاں جب عوامی تحریک نے حالات بدل دیے، بھارت نے موقف تبدیل کیا، مگر تاخیر نے اُس کے ارادوں پر سوالات پیدا کیے۔
یہ بھی پڑھیں:بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ کے مبینہ ’بھارتی رابطوں‘ پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے
اسی طرح جب ماؤنواز اور دیگر نئی جمہوری قوتیں مین اسٹریم سیاست میں آئیں، بھارت اکثر شکوک، سفارتی دباؤ اور اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی حکمتِ عملی پر قائم رہا، اور نئی عوامی نمائندہ قیادت کے مقابلے میں روایتی ایلیٹ کو ترجیح دیتا رہا۔ ان تمام مثالوں نے نیپالی عوام میں یہ تاثر مضبوط کیا کہ بھارت جمہوریت سے زیادہ اپنے مفادات سے ہم آہنگ آمرانہ یا اشرافی قوتوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔
گزشتہ دسمبر میں جب شام میں بشار الاسد کی حکومت گرائی گئی اور اُس کی جگہ ایک عبوری حکومت جس کی سربراہی احمد الشرع کر رہے تھے اُنہوں نے سنبھالی تو بھارت نے فوراً اپنا سفارتی وفد شام بھیجا جس کا مقصد اسٹریٹجک مقاصد کا حصول تھا۔
جمہوری اُصولوں پر اسٹریٹجک مفادات کو اہمیتبھارت کی خارجہ پالیسی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق جیسی بنیادی اقدار کو پسِ پشت ڈال کر اپنے اسٹریٹجک مفادات جیسا کہ جیو پولیٹیکل برتری، معاشی فوائد اور سیکیورٹی کو ترجیح دیتا ہے، مگر آمرانہ اتحادیوں پر اس انحصار کے سنگین نقصانات بھی سامنے آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مودی حکومت کی انتقامی کارروائی، یاسین ملک کو 35 سال پرانے کیس میں مرکزی ملزم قرار دیدیا
ایسے اتحادی جب انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہوں تو بھارت کی بین الاقوامی ساکھ متاثر ہوتی ہے، اور اگر ان کی حکومتیں کمزور پڑ جائیں یا عوامی حمایت کھو دیں تو بھارت کی سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی منصوبے براہِ راست خطرے میں آ جاتے ہیں، جیسا کہ شیخ حسینہ کے معاملے میں ہوا۔
اس طرزِ عمل سے خطے میں بھارت کے خلاف عوامی ردعمل بھی جنم لیتا ہے جو علاقائی استحکام کو متاثر کر سکتا ہے، لہٰذا بھارت کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض آمرانہ اتحادیوں پر انحصار کرنے کے بجائے زیادہ متوازن حکمتِ عملی اختیار کرے، متنوع اور جمہوری قوتوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرے، اور انسانی حقوق و عوامی رائے کو اپنی خارجہ پالیسی کا لازمی حصہ بنائے تاکہ اس کے اسٹریٹجک مقاصد اخلاقی اور سیاسی دونوں پہلوؤں سے زیادہ پائیدار بنیادوں پر کھڑے ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مرانہ قوتوں حسینہ واجد بنگلہ دیش بھارت کی تو بھارت بھارت نے کی حکومت سری لنکا کے بجائے کو ترجیح جمہوری ا بھارت ا کے خلاف کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔