وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت‘ سہولیات دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251128-01-28
مناما (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرِاعظم شہباز شریف نے بحرین کے تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی اور کہا ہے کہ پاکستان میں زراعت، آئی ٹی، معدنیات، توانائی اور سیاحت کے شعبہ جات طویل مدتی شراکت داری کے مواقع موجود ہیں۔ یہ بات انہوں نے بحرین کے 2 روزہ سرکاری دورے میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں بحرین کے نائب وزیراعظم، وزرائے خارجہ، خزانہ و قومی معیشت، صنعت و تجارت کے حکام سمیت پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحق ڈار، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر موجود تھے۔وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان باصلاحیت افرادی قوت، وسائل اور تیزی سے بڑھتی ہوئی صارفین کی مارکیٹ ہے جس میں کاروبار کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، جب اس میں بحرین کی مالی مہارت اور کاروباری بصیرت شامل ہو تو امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، پاکستانی اور بحرینی کاروباری شخصیات کو بتایا کہ پاکستان اور جی سی سی کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے پر جلد دستخط کیے جانے کی توقع ہے جس سے تجارتی تعاون مضبوط ہوگا۔ وزیرِاعظم نے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ، ولی عہد و وزیراعظم سلمان بن حمد الخلیفہ کا اپنی اور اپنے وفد کی پرتکلف میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ثقافت، مذہب، باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہیں اور دہائیوں سے اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد پر قائم ہیں‘ اب ہمیں ان بہترین تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ نوجوان آبادی کے چیلنج کو آئی ٹی، اے آئی، فنی تربیت اور مہارت کی تربیت کے ذریعے ایک بڑی قومی قوت میں تبدیل کیا جائے گا۔وزیرِاعظم نے بحرین میں مقیم ایک لاکھ سے زاید پاکستانیوں کی اپنے میزبان ملک اور وطن کے لیے خدمات کو سراہا، جنہوں نے گزشتہ برس 484 ملین ڈالر کی ترسیلات وطن بھیجیں۔ قبل ازیں خطاب میں بحرین کے وزیرِ خزانہ سلمان بن خلیفہ الخلیفہ نے کہا کہ پاکستانیوں کی نسل در نسل خدمات نے بحرین کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور بہت سے پاکستانیوں نے بحرین کو اپنا دوسرا گھر بنا لیا ہے، پاکستان کے مالیاتی ادارے نصف صدی سے زاید عرصے سے بحرین کے مالی شعبے کے اہم ستون رہے ہیں۔وزیر نے بتایا کہ بحرین ایک نسلیاتی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور خطہ جدت، پائیداری اور تکنیکی بہترین کارکردگی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جس میں بحرین اہم کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے میں بحرین کی ہائی کیپیسٹی سب میرین کیبلز اور وسیع ہوتے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اسے خطے میں ڈیٹا اور کنیکٹیویٹی کا مرکز بنا رہے ہیں، جو پاکستان کی سافٹ ویئر انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکورٹی اور جدید ترین ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے نئی راہیں کھولتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بحرین وژن 2030ء کو آگے بڑھاتے ہوئے اور وژن 2050ء کی بنیاد رکھتے ہوئے پاکستان کو اپنے ساتھ ایک مشترکہ معاشی مستقبل کا شراکت دار سمجھتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف بحرین کے نائب وزیر اعظم کی جانب سے اقتصادی ترقیاتی بورڈ کے ہیڈکوارٹرز مناما میں منعقدہ استقبالیہ میں کاروباری برادری سے خطاب کر رہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ پاکستان نے کہا کہ بحرین کے انہوں نے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔