لاہور ہائیکورٹ نے ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی پر رپورٹ طلب کر لی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سموگ تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی پر رپورٹ طلب کر لی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق دوران سماعت ممبر جوڈیشل کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ناصر باغ میں درخت کاٹے جارہے ہیں، اس پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ بار بار کہنے کے باوجود درخت کیسے کٹ جاتے ہیں، حکومت بھی کہہ رہی ہے کہ درخت نہیں کاٹے جائیں گے، ناصر باغ کے قریب درخت کاٹے جارہے ہیں یہ کیا معاملہ ہے؟
فواد چودھری کی 5 مقدمات میں عبوری ضمانت میں 9 جنوری تک توسیع
وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ کوئی درخت نہیں کاٹے جا رہے، وکیل پی ایچ اے نے بتایا کہ ہمارا سختی سے حکم ہے کوئی درخت نہیں کاٹا جائے گا، وکیل ایل ڈی اے نے مزید کہا کہ ناصر باغ میں زیر زمین پارکنگ بنا رہے ہیں، وکلاء کے کےلیے پارکنگ ایریا بنا رہے ہیں۔
جسٹس شاہد کریم نے ممبر جوڈیشل کمیشن کو ہدایت کی کہ ناصر باغ کا دورہِ کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کریں، مجھے جو تصاویر ملی ہیں اس میں تو درخت کاٹے ہوئے ہیں، ناصر باغ کی بڑی تاریخی حیثیت ہے۔
وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ ہم نے درخت نہیں کاٹے بلکہ درختوں کو ٹرانسپلانٹ کیا ہے، عدالت نے کہا کہ خوشی اس بات کی ہے اس عدالت سے گزشتہ سات سال میں جو حکم ہوئے اسے حکومت تسلیم کر رہی ہے،سکول بسز کے حوالے سے بھی ہمارا حکم تھا حکومت اس طرف نہیں آرہی۔
بیوی اور بیٹی کے مبینہ اغواء کے معاملے میں ملوث ہونے کا الزام ، ڈی ایس پی عثمان حیدر معطل
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آج میں نے راستے میں دیکھا کہ پنجاب یونیورسٹی کی بسیں دھواں چھوڑ رہی تھیں، جامعہ پنجاب کی بسوں کی انسپکشن کریں اور دھواں چھوڑنے والی بسیں بند کریں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ پانی کے میٹرز کا کیا بنا ہے، وکیل واسا نے بتایا کہ واسا نے اب تک 1300 میٹر خریدے ہیں، جوہر ٹاؤن میں260 میٹرز لگائے جا چکے ہیں، عدالت نے پوچھا کہ یہ میٹرز کہاں سے خریدے گئے ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ یہ سب امپورٹڈ میٹرز ہیں، ہم نے اپنے سورسز سے پانچ سو ملین کا فنڈ واٹر میٹرز کے لیے مختص کر دیا ہے۔
میں گھر میں بھائی اور بہنوئی سے بھی پردہ کرتی ہوں : ڈاکٹر نبیحہ علی خان
عدالت نے قرار دیا کہ کمرشل جگہوں پر پہلے واٹر میٹرز لگائیں، واسا کے وکیل نے آگاہ کیا کہ ابھی پائلٹ پراجیکٹ چلا رہے ہیں تاکہ ڈیٹا کولیکشن کو ایک بار دیکھ لیں، عدالت نے کہا کہ ایک بڑے مقصد کے لیے ایک اچھا قدم ہے، جب سب جگہوں پر میٹرز لگ جائیں گے تو لوگ خود پانی بچائیں گے، ڈی ایچ اے نے اس معاملے میں اچھا کام کیا ہے، انہوں نے پہلے ہی یہ میٹرز لگا دیئے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ واسا سے کہیں کہ لاہور میں پانی کی سطح کے حوالے سے رپورٹ جمع کروائیں، جاننا ضروری ہے کہ لاہور کا زیر زمین پانی کا لیول مزید نیچے تو نہیں جا رہا؟
شہباز شریف برطانیہ کے مختصر نجی دورے پر لندن پہنچ گئے
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ پارکس میں تعمیراتی کام نہیں ہونا چاہئے، تعمیراتی کام کبھی بھی ماحول دوست نہیں ہو سکتا، عدالت نے سماعت آئندہ ہفتہ تک ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: لاہور ہائیکورٹ درخت نہیں نے کہا کہ عدالت نے رہے ہیں
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔