لاہور اور بہاولپور سے کمسن بچیوں کاوالدہ سمیت اغوا، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اسلام آباد طلب
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے لاہور اور بہاولپور سے کمسن بچیوں کاوالدہ سمیت اغواکے معاملے میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اسلام آباد طلب کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاہور اور بہاولپور سے کمسن بچیوں کاوالدہ سمیت اغوا کے معاملے پر جسٹس محسن کیانی نے وقاص احمد اور سہیل علیم کی مقدمہ اخراج کی درخواست کی سماعت کی،مشرف رسول نے وقاص اور سہیل کے ساتھ لین دین کے تنازع پر مقدمہ درج کرا رکھا ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن آ کر بتائیں کیا لاہور پولیس کا بیان قلمبند کیاگیا؟ڈی آئی جی بتائیں جنہوں نے خاتون کے گھر لاہور چھاپہ مارا، کیا ان کا بیان لیاگیا،جسٹس کیانی نے کہاکہ جنہوں نے خاتون اور بچیوں کو گھر سے اٹھایا ان کے پاس سرچ وارنٹ تھے۔
ابھی تو ججز بھی نہیں رہے، صرف اساتذہ ہی ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی کے دوران سماعت اہم ریمارکس
جسٹس محسن اخترکیانی نے مشرف رسول کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کیا۔وکیل شہریار طارق نے کہاکہ سپریم کورٹ نے اس عدالت کا اکتوبرکاایک آرڈر معطل کررکھا ہےجسٹس کیانی نے کہا کہ اس کے بعد جو آرڈر ہوا وہ معطل نہیں ہوا، آپ اس عدالت کو کام سے روک نہیں سکتے،ہم جو آرڈر کریں گے آپ اسے آئینی عدالت میں لے جائیں، ہم ایک واقعہ کی سچائی میں جانا چاہتے ہیں،جس میں خاتون اور بچیوں کی تذلیل ہوئی ،اگر بغیر سرچ وارنٹ کسی کو اٹھایا تو وہ اغواسمجھاجائے گا، پولیس کچھ کر نہیں سکتی ، ایف آئی اےانویسٹی گیشن کرنا نہیں چاہتی ۔
پاک ویلز کار میلہ فیصل آباد میں: اپنی گاڑی فوری بیچنے کا سنہری موقع
لطیف کھوسہ نے کہاکہ مشرف رسول نے مہنگا گھر اسلام آباد میں بنایا، لین دین کا تنازعہ تھا،مشرف رسو ل کے وکیل شہریار طارق نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیاتھا لیکن اب وفاقی آئینی عدالت میں بھی درخواست دی ہے،جسٹس کیانی نے کہا کہ مطلب یہ معاملہ آئینی عدالت، سپریم کورٹ، پولیس، ایف آئی اے، مجسٹریٹ کے پاس زیرالتوا ہے،وکیل شہریار طارق نے کہاکہ جی بالکل ایسا ہی آئینی عدالت میں ابھی کیس مقرر نہیں ہوا،جسٹس کیانی نے کہاکہ معاملہ اتنی جگہ التوا میں ہے اور کوئی انویسٹی گیشن نہیں ہورہی تو پھر انجوائے کریں،آپ کہنا چاہتے ہیں پہلے ہم 27ویں آئینی ترمیم پر بحث کریں گے، پھر دائرہ اختیار فائنل ہوگا، وکیل نے کہاکہ نہیں ایسا نہیں ہے ہم نے اسی عدالت کا بس ایک آرڈر چیلنج کیا ہے،لطیف کھوسہ نے کہاکہ ہائیکورٹ بھی آئینی کورٹ ہے، پھر تو معذرت کیساتھ ہائیکورٹ کو تالہ لگا دیں۔
دھرمیندر کی موت کے بعد ہیما مالنی کی پہلی ٹوئٹ، پیغام کیساتھ یادگار تصاویر جاری کردیں
جسٹس کیانی نے کہاکہ صورتحال تو ایسی ہی ہے،اگر عدالتیں مضبوط ہوتی تو آج یہ سب کچھ نہ ہورہا ہوتا،لاہور سے خاتون اور اس کی 3سال کی بچیوں کواغواکیاگیا، یہاں پولیس مقابلہ کیا گیا،معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی کو بھیجا تھا،عورت اور بچیوں کے اغوا پر قانون کی بے بسی پر شرم آتی ہے،ہم سب دیکھ رہے ہیں اور کچھ کر نہیں سکتے،تین سال کی بچی کو 6دن ماں سے دور رکھاگیایہ انتہائی شرمناک حرکت تھی،ساری عدالتیں اگر کچھ نہیں کر سکتیں تو پھر ہم کس لئے یہاں بیٹھے ہیں،جس پولیس پر الزام ہے اسی نے تفتیش کرنی ہے،جو ایس پی یہاں آئے انہیں کیس کا ایک لفظ پتہ نہیں تھا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا 7 دسمبر کو پشاور میں جلسے کا اعلان
وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ کسی قابل اعتماد ایجنسی یا ادارے سے معاملہ انویسٹی گیٹ کروا لیں،جسٹس کیانی نے کہاکہ وہ ایجنسی کون سی ہے جو غیرجانبدار ہے؟جس پر ہم اعتماد کرسکیں آپ بتا دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی آئی جی کو طلب کرتے ہوئے سماعت9دسمبر تک ملتوی کردی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: جسٹس کیانی نے کہاکہ انویسٹی گیشن ا ئینی عدالت اسلام ا باد سپریم کورٹ ڈی ا ئی جی
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔