معذوری کمزوری نہیں، فوڈ پانڈا رائیڈر کی حوصلہ افزا داستان
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے خان وزیر کی زندگی حوصلے اور جدوجہد کی ایک روشن مثال ہے۔ خان وزیر 2016 میں ایک سنگین سڑک حادثے کا شکار ہوئے جس میں اُن کی ایک ٹانگ ضائع ہوگئی۔ جسمانی چیلنج کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے لیے باعزت روزگار کا راستہ خود تلاش کیا۔
آج وہ فوڈ پینڈا کے رائیڈر کے طور پر اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں کھانا ڈلیور کرتے ہیں۔ ایک ٹانگ پر زندگی کا بوجھ اٹھانا بلاشبہ آسان نہیں، لیکن خان وزیر کا حوصلہ قابلِ تعریف ہے۔ وہ روز دفاتر اور گھروں تک آرڈر پہنچاتے ہوئے لوگوں کے چہروں پر خوشی لاتے ہیں اور ساتھ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
خان وزیر کا کہنا ہے کہ محنت ہی انسان کو مضبوط بناتی ہے، اور عزت ہمیشہ محنت سے ہی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کمائی سے خوش ہیں اور خود مختار زندگی گزارنے کو اپنا سب سے بڑا فخر سمجھتے ہیں۔
ان کے مطابق، انسان اگر ہمت نہ ہاریں تو کوئی چیلنج راستہ نہیں روک سکتا۔ خان وزیر کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ مشکلات چاہے جتنی بھی بڑی ہوں اگر حوصلہ نہ ہارا جائے تو کامیابی خود قدم چومتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔