مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں ، جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے بھارت میں نافذ کیے گئے سخت اور جابرانہ قوانین، خصوصاً پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت بڑھتی ہوئی غیر معینہ اور غیر منطقی حراستوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان قوانین کے مسلسل اور بے دریغ استعمال نے بھارت میں منظم ریاستی جبر کو قانونی تحفظ فراہم کیا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 2800 افراد کو پابندِ سلاسل کیا گیا ہے، جن میں صحافی، طلبہ، انسانی حقوق کے رضاکار اور سیاسی کارکن شامل ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے نفرت انگیز تقاریر، ہجومی تشدد اور کشمیریوں و مسلم برادری کو ہراساں کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیا۔ اس صورتحال نے بھارت کے اندر بنیادی انسانی آزادیوں، اظہارِ رائے کے حق اور جمہوری اقدار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف منظم نفرت اور تعصب پر مبنی ماحول ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس نے عالمی برادری کی تشویش میں بھی اضافہ کیا ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے بھارت پر زور دیا کہ وہ مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ظلم و ستم کو فوری طور پر بند کرے اور انسانی حقوق کے عالمی معیارات کی پاسداری یقینی بنائے۔محمد جاوید قصوری نے واضح کیا کہ پاکستانی قوم مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے اور مسئلہ کشمیر کے پرامن، منصفانہ اور دیرپا حل کے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے، کیونکہ اس تنازع کا حل نہ صرف خطے کے امن کے لیے ضروری ہے بلکہ جنوبی ایشیا کی ترقی اور استحکام کا ضامن بھی ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لے اور کشمیریوں سمیت تمام مذہبی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے موثر کردار ادا کرے۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ جماعت اسلامی عالمی انسانی اقدار، انصاف اور مظلوم اقوام کی حمایت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بھارت میں نے بھارت کا اظہار انہوں نے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔