data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251127-01-15
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) پاکستان نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں بھارت کی جانب سے منظم انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے اسپیشل پروسیجرز کے ماہرین کی جانب سے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے حوالے سے حالیہ نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے جو بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں کیے جا رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ یہ رپورٹ ایک بار پھر بھارتی قبضے کے تحت کشمیری عوام کو درپیش شدید اور منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتی ہے۔اس میں اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے ان مشاہدات پر بھی شدید پریشانی کا اظہار کیا گیا کہ بھارت کے اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 2800 افراد، جن میں صحافی، طلبہ اور انسانی حقوق کے علمبردار شامل ہیں، کو حراست میں رکھا گیا ہے۔مزید کہا گیا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) جیسے سخت قوانین کے مسلسل نفاذ نے غیر معینہ اور غیر منطقی حراستوں کی راہ ہموار کی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ تشدد، حراستی اموات، قیدیوں سے رابطے کا منقطع رہنا، قانونی کارروائی سے محروم رکھنا، اہلِ خانہ سے رابطہ نہ ہونے دینا، گھروں کو سزا کے طور پر مسمار کرنا، جبری بے دخلی، بار بار ہونے والے مواصلاتی بلیک آؤٹس، اور صحافتی آزادی کی سخت پابندیاں، جن میں 8 ہزار سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش بھی شامل ہے، نیز نفرت انگیز تقریروں، ہجومی تشدد اور بھارت بھر میں کشمیریوں اور مسلم برادریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ انتہائی قابلِ مذمت اور باعثِ تشویش ہیں۔بیان کے مطابق یہ نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کشمیری مسلمانوں پر ریاستی سرپرستی میں ہونے والے ظلم و جبر کے حوالے سے پاکستان کے دیرینہ تحفظات درست تھے اور بھارت بھر میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک جاری ہے‘۔دفتر خارجہ نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے جابرانہ اقدامات بند کرے اور مقبوضہ کشمیر میں تمام من مانے طور پر گرفتار شدہ افراد کو غیر مشروط طور پر رہا کرے۔اس کے علاوہ بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ تمام مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور مسیحیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرے۔مزید کہا گیا کہ پاکستان کشمیر کے تنازع کے پرامن، منصفانہ اور دیرپا حل کے عزم کا اعادہ کرتا ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کہا گیا گیا کہ

پڑھیں:

فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا

فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی

دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔

امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔

فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام

فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کالا ہرن کیس کیا تھا؟

سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔

اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔

یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول

سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے