WE News:
2026-06-03@04:16:48 GMT

مریم نواز کی گندم کی فصل پر مقابلہ جاتی مہم کامیاب ہوگی؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

مریم نواز کی گندم کی فصل پر مقابلہ جاتی مہم کامیاب ہوگی؟

پنجاب حکومت نے 2026-2025 کی فصلی سال کے لیے گندم کے پیداواری مقابلوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے جس کا مقصد کسانوں کو پیداوار بڑھانے کی ترغیب دینا اور جدید زرعی آلات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 10 لاکھ روپے تک نقد انعام جیتنے کا موقع! پنجاب حکومت کا بڑا اعلان

محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق صوبائی اور ضلعی سطح پر لاکھوں روپوں کے انعامات رکھے گئے ہیں جن میں مختلف ہارس پاور کے ٹریکٹرز شامل ہیں۔

تاہم پاکستان کسان اتحاد نے اس اعلان کو خوش آمدید کہتے ہوئے حکومت سے ایک مطالبہ کیا ہے کہ انعامات کے علاوہ گندم کی سرکاری خریداری اور منصفانہ امدادی قیمت کا  اعلان  بھی کیا جائے۔

محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے بتایا کہ یہ مقابلے صوبے بھر میں 5 ایکڑ یا اس سے زائد رقبے پر گندم کاشت کرنے والے کسانوں کے لیے کھلے ہیں۔

صوبائی سطح پر پہلا انعام 85 ہارس پاور کا ٹریکٹر، دوسرا انعام 75 ہارس پاور کا ٹریکٹر اور تیسرا انعام 60 ہارس پاور کا ٹریکٹر ہوگا جبکہ ضلعی سطح پر پہلا انعام 10 لاکھ روپے، دوسرا 8 لاکھ روپے اور تیسرا 5 لاکھ روپے نقد ہوگا۔

مزید پڑھیے: دھی رانی پروگرام، اب تک پنجاب حکومت کتنے جوڑوں کی شادیاں کروا چکی ہے؟

ترجمان نے مزید کہا کہ مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے درخواست فارم تحصیل سطح پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت یا زراعت آفیسر کے دفاتر سے دستیاب ہوں گے۔

اہم بات یہ ہے کہ اراکین اسمبلی، سرکاری افسران اور محکمہ زراعت کے ملازمین اس مقابلے میں شریک نہیں ہو سکیں گے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

یہ مقابلے گندم کی فصلیں مکمل ہونے کے بعد پیداوار کی جانچ پڑتال پر مبنی ہوں گے اور کامیاب کسانوں کو انعامات کی تقسیم ایک الگ تقریب میں کی جائے گی۔

یہ اعلان وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سربراہی میں جاری زرعی ترقیاتی پیکج کا حصہ ہے جس میں پہلے ہی گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت ایک سے 50 ایکڑ کے رقبے پر گندم کاشت کرنے والے ایک ہزار کسانوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے مفت ٹریکٹرز دیے جا چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کا اسموگ سے نمٹنے کے لیے بڑا فیصلہ، مارکیٹوں کے اوقات کار تبدیل

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف گندم کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ خصوصاً موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے تناظر میں کسانوں کی معاشی حالت بھی مستحکم ہوگی۔

 انعامات تو اچھے مگر سرکار خریداری اور قیمت کا اعلان بھی کرے

پاکستان کسان اتحاد نے اس اعلان کو کسانوں کی فلاح و بہبود کی طرف ایک قدم قرار دیا ہے مگر اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے حکومت پر تنقید کی ہے۔

کسان اتحاد کے چیئرمین خالد کھوکھر نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انعامات اور ٹریکٹرز تو خوشگوار ہیں، لیکن کسان کی اصل پریشانی پیداوار بیچنے کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اب تک گندم کی سرکاری امدادی قیمت کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی کوئی خریداری کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی کسانوں کو اوپن مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا تو پیداوار سستے داموں ضائع ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب حکومت کا اینفورسمنٹ اینڈ ریگولیشنز اتھارٹی کو مزید خودمختاری دینے کا فیصلہ

خالد کھوکھر نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی لاگت کھاد، بیج، بجلی، اور زرعی ادویات کی وجہ سے کسان کو فی من کم از کم 4 ہزار روپے ملنے چاہییں جبکہ اوپن مارکیٹ میں یہ ریٹ 2 ہزار روپے سے بھی کم ہے۔

رواں سال گندم کی پیداوار میں 15 سے 20 فیصد کمی کا خدشہ ہے جو معاشی مسائل اور مناسب ان پٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی مقابلہ جاتی مہم اچھی ہے لیکن کسان حکومت سے شدید  ناراض ہے کیوں کہ پچھلے 2 سال سے گندم کاشت کرنے والا کسان در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے اس دفعہ گندم کی فصل پچھلے سال کی نسبت کم ہوگی۔

مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان ائمہ کرام کے لیے پنجاب حکومت کے وظیفہ میں رکاوٹ نہ بنیں، علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی

کسان پارٹی  کے چیئرمین مبشر ڈوگر نے بتایا کہ حکومت کو چاہیے کہ انعامات کے ساتھ ساتھ کسانوں کو سبسڈی اور فوری امداد دے ورنہ آئندہ سال گندم کی کاشت مزید کم ہو جائے گی۔

گندم کی پیداوار میں اضافہ تو ہو رہا ہے مگر کسانوں کو اس کا فائدہ نہیں مل رہا، جو زرعی معیشت کے لیے خطرناک ہے۔

مزید پڑھیے: پنجاب حکومت کا غیر قانونی اسلحہ کے خلاف بھرپور ایکشن

ماہرین زراعت کا کہنا ہے کہ ایسے مقابلوں سے پیداوار تو بڑھے گی مگر کسان اتحاد کی تنقید درست ہے کہ بغیر منصفانہ مارکیٹنگ کے یہ اقدامات ناکام ہو جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب حکومت محکمہ زراعت پنجاب مریم نواز اور انعامی اسکیم مریم نواز کی گندم کی فصل پر مقابلہ جاتی مہم کامیاب ہوگی؟ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنجاب حکومت مریم نواز اور انعامی اسکیم وزیراعلی مریم نواز شریف پنجاب حکومت کا مریم نواز کی کسان اتحاد ہارس پاور کسانوں کو لاکھ روپے گندم کی کے لیے

پڑھیں:

گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ

​حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔

رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟

جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔

اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔

اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔

زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔

خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔

​نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔

​پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔

قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

​لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔

​یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیدہ سفینہ ملک

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان