مریم نواز کی گندم کی فصل پر مقابلہ جاتی مہم کامیاب ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
پنجاب حکومت نے 2026-2025 کی فصلی سال کے لیے گندم کے پیداواری مقابلوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے جس کا مقصد کسانوں کو پیداوار بڑھانے کی ترغیب دینا اور جدید زرعی آلات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 10 لاکھ روپے تک نقد انعام جیتنے کا موقع! پنجاب حکومت کا بڑا اعلان
محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق صوبائی اور ضلعی سطح پر لاکھوں روپوں کے انعامات رکھے گئے ہیں جن میں مختلف ہارس پاور کے ٹریکٹرز شامل ہیں۔
تاہم پاکستان کسان اتحاد نے اس اعلان کو خوش آمدید کہتے ہوئے حکومت سے ایک مطالبہ کیا ہے کہ انعامات کے علاوہ گندم کی سرکاری خریداری اور منصفانہ امدادی قیمت کا اعلان بھی کیا جائے۔
محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے بتایا کہ یہ مقابلے صوبے بھر میں 5 ایکڑ یا اس سے زائد رقبے پر گندم کاشت کرنے والے کسانوں کے لیے کھلے ہیں۔
صوبائی سطح پر پہلا انعام 85 ہارس پاور کا ٹریکٹر، دوسرا انعام 75 ہارس پاور کا ٹریکٹر اور تیسرا انعام 60 ہارس پاور کا ٹریکٹر ہوگا جبکہ ضلعی سطح پر پہلا انعام 10 لاکھ روپے، دوسرا 8 لاکھ روپے اور تیسرا 5 لاکھ روپے نقد ہوگا۔
مزید پڑھیے: دھی رانی پروگرام، اب تک پنجاب حکومت کتنے جوڑوں کی شادیاں کروا چکی ہے؟
ترجمان نے مزید کہا کہ مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے درخواست فارم تحصیل سطح پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت یا زراعت آفیسر کے دفاتر سے دستیاب ہوں گے۔
اہم بات یہ ہے کہ اراکین اسمبلی، سرکاری افسران اور محکمہ زراعت کے ملازمین اس مقابلے میں شریک نہیں ہو سکیں گے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔
یہ مقابلے گندم کی فصلیں مکمل ہونے کے بعد پیداوار کی جانچ پڑتال پر مبنی ہوں گے اور کامیاب کسانوں کو انعامات کی تقسیم ایک الگ تقریب میں کی جائے گی۔
یہ اعلان وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سربراہی میں جاری زرعی ترقیاتی پیکج کا حصہ ہے جس میں پہلے ہی گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت ایک سے 50 ایکڑ کے رقبے پر گندم کاشت کرنے والے ایک ہزار کسانوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے مفت ٹریکٹرز دیے جا چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کا اسموگ سے نمٹنے کے لیے بڑا فیصلہ، مارکیٹوں کے اوقات کار تبدیل
ترجمان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف گندم کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ خصوصاً موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے تناظر میں کسانوں کی معاشی حالت بھی مستحکم ہوگی۔
انعامات تو اچھے مگر سرکار خریداری اور قیمت کا اعلان بھی کرےپاکستان کسان اتحاد نے اس اعلان کو کسانوں کی فلاح و بہبود کی طرف ایک قدم قرار دیا ہے مگر اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے حکومت پر تنقید کی ہے۔
کسان اتحاد کے چیئرمین خالد کھوکھر نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انعامات اور ٹریکٹرز تو خوشگوار ہیں، لیکن کسان کی اصل پریشانی پیداوار بیچنے کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اب تک گندم کی سرکاری امدادی قیمت کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی کوئی خریداری کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی کسانوں کو اوپن مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا تو پیداوار سستے داموں ضائع ہو جائے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب حکومت کا اینفورسمنٹ اینڈ ریگولیشنز اتھارٹی کو مزید خودمختاری دینے کا فیصلہ
خالد کھوکھر نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی لاگت کھاد، بیج، بجلی، اور زرعی ادویات کی وجہ سے کسان کو فی من کم از کم 4 ہزار روپے ملنے چاہییں جبکہ اوپن مارکیٹ میں یہ ریٹ 2 ہزار روپے سے بھی کم ہے۔
رواں سال گندم کی پیداوار میں 15 سے 20 فیصد کمی کا خدشہ ہے جو معاشی مسائل اور مناسب ان پٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی مقابلہ جاتی مہم اچھی ہے لیکن کسان حکومت سے شدید ناراض ہے کیوں کہ پچھلے 2 سال سے گندم کاشت کرنے والا کسان در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے اس دفعہ گندم کی فصل پچھلے سال کی نسبت کم ہوگی۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان ائمہ کرام کے لیے پنجاب حکومت کے وظیفہ میں رکاوٹ نہ بنیں، علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی
کسان پارٹی کے چیئرمین مبشر ڈوگر نے بتایا کہ حکومت کو چاہیے کہ انعامات کے ساتھ ساتھ کسانوں کو سبسڈی اور فوری امداد دے ورنہ آئندہ سال گندم کی کاشت مزید کم ہو جائے گی۔
گندم کی پیداوار میں اضافہ تو ہو رہا ہے مگر کسانوں کو اس کا فائدہ نہیں مل رہا، جو زرعی معیشت کے لیے خطرناک ہے۔
مزید پڑھیے: پنجاب حکومت کا غیر قانونی اسلحہ کے خلاف بھرپور ایکشن
ماہرین زراعت کا کہنا ہے کہ ایسے مقابلوں سے پیداوار تو بڑھے گی مگر کسان اتحاد کی تنقید درست ہے کہ بغیر منصفانہ مارکیٹنگ کے یہ اقدامات ناکام ہو جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت محکمہ زراعت پنجاب مریم نواز اور انعامی اسکیم مریم نواز کی گندم کی فصل پر مقابلہ جاتی مہم کامیاب ہوگی؟ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب حکومت مریم نواز اور انعامی اسکیم وزیراعلی مریم نواز شریف پنجاب حکومت کا مریم نواز کی کسان اتحاد ہارس پاور کسانوں کو لاکھ روپے گندم کی کے لیے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔