وزارتِ اعلیٰ سے بڑی کوئی ذمہ داری نہیں، پنجاب کے ہر فرد کی فکر ہے: وزیراعلیٰ پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
اسکرین گریب
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ وزارتِ عظمیٰ یا وزارتِ اعلیٰ سے بڑی کوئی ذمہ داری نہیں، عوام کے علاج، صفائی، صحت اور سڑکوں کی فکر ہے، روٹی اور سبزیوں کی کیا قیمت ہے اس کی فکر ہے، مجھے پنجاب کے ہر بچے بڑے کی فکر ہے۔
مریم نواز نے خصوصی طلبہ کے لیے کھانے کی فراہمی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران نام لیے بغیر مخالفین پر طنز کرتے ہوئے کہا جو وزرائے اعلیٰ یا حکومتی عہدیداران کہتے ہیں جلسہ کرو، گھیراؤ کرو، دنگا فساد کرو، نہ جانے ان کے پاس اتنا ٹائم کہا سے آتا ہے، ان کی تھوڑی سی توجہ سے کتنے لوگوں کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ انسٹی ٹیوشنز میں مِیل پروگرام شروع کیا ہے، اسپیشل بچوں کے اسکول میں گئی تو لگا کہ یورپ کے کسی اسکول میں آگئی ہوں، جو بچے دیکھ نہیں سکتے میں نے ان بچوں کو پڑھنے اور لکھنا سیکھتے دیکھا، خصوصی بچے ہمارے ہیروز ہیں، اللّٰہ تعالیٰ اسپیشل بچوں کو ایسی صلاحیت دیتا ہے جو عام انسانوں میں نہیں ہوتی، نابینا بچے اتنی دور دیکھ سکتے ہیں، آنکھیں رکھنے والے اتنی دور نہیں دیکھ سکتے، سماعت سے محروم بچے وہ چیزیں سن سکتے ہیں جو سماعت رکھنے والے نہیں سن سکتے، بصارت اور سماعت سے محروم بچے خدادا صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔
جاپان سمیت دنیا بھر کے مذہبی و سماجی حلقوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس تاریخی فیصلے کو سراہا ہے، جس کے تحت پنجاب کی 65 ہزار مساجد کے آئمہ کرام کے لیے ماہانہ 10 ہزار روپے وظیفہ مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسپیشل بچوں کے لیے پنجاب میں 303 ادارے ہیں، جنہیں ریفارم کرنے جا رہے ہیں، خصوصی افراد کو ہمت کارڈ دے رہے ہیں، 28 اضلاع میں سینٹر آف ایکسیلینس بن چکے ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ آپ میرا شکریہ ادا نہ کریں، یہ میرا فرض ہے، میں تین بچوں کی ماں ہوں، مجھے احساس ہے، میری بہن کا بڑا بیٹا اسپیشل چائلڈ ہے، اسپیشل بچے کی وجہ سے گھر میں رحمت ہے، جن والدین کے گھر میں اسپیشل بچے ہیں ان کی ہمت کو سلام پیش کرتی ہوں، ایک ماں نے بتایا کہ اسپیشل بچے کی وجہ سے ان کے گھر کی بلائیں ٹلتی ہیں، اسپیشل بچوں سے گھر میں برکت اور رونق ہوتی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ سینٹر آف ایکسیلنس میں ہزاروں اسپیشل بچے سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں گے، پنجاب حکومت کو آپ کی ہر چیز کی فکر ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ بچوں کے خلاف تشدد اور بھیانک جرائم کا خاتمہ یقینی بنایا جارہا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خصوصی افراد کے لیے بسوں کے اندر سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کی سہولت بھی موجود ہوگی، خصوصی افراد کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام سہولتیں فراہم کر رہے ہیں، ریاست کو احساس ہے کہ اسپیشل افراد کو اسپیشل توجہ کی ضرورت ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تقریب میں خصوصی ایتھلیٹس طلبہ کو انعامات بھی دیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پنجاب مریم نواز اسپیشل بچوں اسپیشل بچے کی فکر ہے کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔