پی ٹی آئی کا عمران خان کی صحت سے متعلق افواہوں پر حکومت سے وضاحت دینے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 27 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کے بانی عمران خان کی صحت سے متعلق افواہوں پر حکومت سے وضاحت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ سابق وزیرِاعظم کی اہلِ خانہ سے ملاقات کا فوری انتظام کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں عمران خان کی بہنوں کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث انہوں نے سابق وزیرِاعظم کی موجودگی پر سوالات اٹھائے اور اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھ کر احتجاج کیا۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر ان کی موت سے متعلق غیر مصدقہ دعوے شیئر کیے گئے، جنہیں بھارتی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا، جمعرات کی صبح ایکس پر عمران خان کہاں ہیں؟ کا ٹرینڈ بھی چل رہا تھا۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق قبیح نوعیت کی افواہیں افغان اور بھارتی میڈیا اور غیر ملکی سوشل میڈیا اکاونٹس کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں۔پارٹی نے مطالبہ کیا کہ موجودہ حکومت اور وزارتِ داخلہ فوری طور پر اس افواہ کی واضح تردید اور وضاحت کریں اور عمران خان اور ان کے اہلِ خانہ کی ملاقات کا فوری انتظام کریں۔پارٹی نے مطالبہ کیا کہ ریاست کی جانب سے عمران خان کی صحت، سلامتی اور موجودہ حیثیت کے بارے میں باقاعدہ اور شفاف بیان جاری کیا جائے۔مزید کہا گیا کہ ریاست ان افراد کی تحقیقات کرے، جو حساس نوعیت کی افواہیں پھیلا رہے ہیں اور مطالبہ کیا کہ حقائق قوم کے سامنے پیش کیے جائیں۔
اپنے بیان میں پارٹی نے متنبہ کیا کہ قوم اپنے قائد(عمران خان)کے بارے میں کسی بھی قسم کی بے یقینی برداشت نہیں کرے گی۔پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران کی سیکیورٹی، انسانی حقوق اور آئینی حقوق کے تحفظ کی ذمے دار براہِ راست حکومت ہے، پارٹی نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ان افواہوں کا مقابلہ کرنے اور سچ کو سامنے لانے کے لیے ہر قانونی اور سیاسی قدم اٹھائے گی۔شاہ محمود قریشی کی بیٹی، پی ٹی آئی رہنما مہر بانو قریشی نے ایکس پر کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق افواہیں تشویشناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت خان صاحب کی حفاظت کی ذمہ دار ہے اور قوم کو آگاہ کرنے کے لیے بیان جاری کرنا اس کا فرض ہے، جہاں تک ان افواہوں کے خاتمے کی بات ہے، سب سے بہترین اور قابلِ اعتماد طریقہ یہ ہے کہ خان صاحب کی بہنوں، وکلا اور پارٹی ارکان کو ان سے ملاقات کرنے دی جائے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت ناکام، عدلیہ پر سوالات آئی ایم ایف رپورٹ عوام سے چھپائی گئی، شاہد خاقان حکومت ناکام، عدلیہ پر سوالات آئی ایم ایف رپورٹ عوام سے چھپائی گئی، شاہد خاقان پاکستانی ہندو کمیونٹی کی بھارتی وزیر دفاع کیخلاف بھارتی ہائی کمیشن کے باہر دھرنے کی دھمکی، متنازع بیان واپس لینے کیلئے تین دن کا.

.. الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات میں کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے وزیراعلی خیبرپختونخوا نے وفاقی حکومت پر 5300ارب روپے کی کرپشن کا الزام عائدکردیا ایس این جی پی ایل نے اپنی تاریخ کا دوسرا بلند ترین منافع کا اعلان کر دیا، 30فیصد کیش ڈیویڈنڈ کی منظوری وائٹ ہاوس پر فائرنگ، افغان طالبان رجیم پوری دنیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ بن گئی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: عمران خان کی صحت سے متعلق پی ٹی آئی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار