Jasarat News:
2026-07-24@11:49:06 GMT

اجتماع عام 2025: اْٹھو جوانوں، بدل دو نظام!

اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251121-03-7
لاہور کی فضا ایک بار پھر انقلاب کی آہٹ سن رہی ہے۔ مینارِ پاکستان وہی تاریخی مقام جہاں کبھی 1940ء میں ایک خواب نے جنم لیا تھا، اب 2025ء میں ایک نئے عزم، ایک نئے سفر، اور ایک نئے نظام کے قیام کا گواہ بننے جا رہا ہے۔ اکیس، بائیس اور تیئس اکتوبر کے یہ دن محض تاریخ کے اوراق نہیں، بلکہ اْمید، بیداری اور تبدیلی کے نئے ابواب رقم کرنے جا رہے ہیں۔ یہ وہ لمحے ہیں جب لاکھوں نوجوان، مزدور، طلبہ، علماء، اساتذہ، مائیں، بہنیں، اور بزرگ ایک ہی صدا میں پکار اٹھیں گے: ’’اْٹھو جوانوں، بدل دو نظام! اْٹھو جوانوں، ہے وقت ِ قیام!‘‘ یہ نعرہ محض سیاسی جوش نہیں بلکہ فکری بیداری اور روحانی انقلاب کا اعلان ہے۔ یہ اس قوم کے نوجوانوں کی للکار ہے جنہیں دہائیوں سے جھوٹے وعدوں، کھوکھلی جمہوریت اور مفاد پرست سیاست کے بوجھ تلے دبایا گیا۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح سرمایہ دارانہ نظام نے عوام کو غلام، اور جاگیردارانہ سیاست نے ان کے خوابوں کو قید کر رکھا ہے۔ اب وہ خاموش نہیں رہ سکتے، کیونکہ ان کے دلوں میں اقبال کی صدائیں جاگ اٹھی ہیں: ’’جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے، مرا عشق مری نظر بخش دے!‘‘

اجتماعِ عام 2025 صرف ایک اجتماع نہیں، بلکہ امت ِ مسلمہ کے شعور کی تجدید ِ عہد ہے۔ یہ وہ تحریک ہے جو سید ابوالاعلیٰ مودودی کے فکر و نظریے کی تسلسل ہے۔ وہ فکر جس نے غلام ذہنوں میں آزادی کی جوت جلائی تھی۔ آج وہی جماعت، وہی عزم، اور وہی مشن ایک بار پھر مینارِ پاکستان کے سائے میں نظامِ مصطفی کے قیام کے عہد کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ اجتماع اس بات کا اعلان ہے کہ اس ملک کا مستقبل کسی مغربی ماڈل، کسی سرمایہ دارانہ ڈھانچے یا کسی جاگیردارانہ سیاست میں نہیں بلکہ اسلامی نظامِ عدل و مساوات میں ہے۔ یہ اجتماع اس نوجوان کے لیے پیغام ہے جو تعلیم کے باوجود بے روزگار ہے، اْس مزدور کے لیے جو اپنی محنت کے باوجود بھوکا سوتا ہے، اْس ماں کے لیے جو اپنے بچوں کے علاج کے لیے در در ٹھوکریں کھاتی ہے، اور اْس طالب علم کے لیے جو خواب دیکھنے سے پہلے ہی مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر انقلاب کا محور نوجوان ہوتے ہیں۔ رسول اکرمؐ کے ساتھیوں میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ علیؓ، مصعبؓ، اسامہؓ، زبیرؓ یہ سب ایمان، یقین اور قربانی کے پیکر تھے۔ اسلام کی بنیاد جس نسل نے رکھی، وہ جوانی کی حرارت اور سوزِ یقین سے لبریز تھی۔ آج بھی وہی وقت لوٹ آیا ہے۔

پاکستان کا نوجوان سیاست سے مایوس نہیں وہ سیاستدانوں سے مایوس ہے۔ وہ انقلاب چاہتا ہے مگر خون خرابہ نہیں، وہ تبدیلی چاہتا ہے مگر اصولوں کے ساتھ۔ یہی نوجوان اجتماعِ عام میں منظم قوت بن کر ابھرنے جا رہے ہیں۔ ان کی للکار اس نظام کے خلاف ہے جس نے تعلیم کو کاروبار، صحت کو منافع، اور انصاف کو تجارت بنا دیا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو شعور یافتہ ہے، جو قرآن و سنت اور اقبال و مودودی کی فکر سے روشنی لے رہی ہے۔ اجتماعِ عام انہیں سمت دے گا۔ فکر کی سمت، نظم کی سمت، اور قیادت کی سمت۔

پاکستان کا قیام کسی زبان یا نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ لا الٰہ الا اللہ کے نعرے پر ہوا تھا۔ لیکن

78 برس بعد بھی ہم وہ نظام نافذ نہ کر سکے جو اس نعرے کا تقاضا تھا۔ ہم نے اسلام کو مسجد کی چار دیواری میں قید کر دیا، عدالتوں اور معیشت میں مغرب کی اندھی تقلید شروع کر دی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارا ملک مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن اور اخلاقی زوال کی تصویر بن چکا ہے۔ نظامِ مصطفی وہ نظام ہے جس میں عدل و مساوات کی ضمانت ہے۔ جس میں حکمران خادم ہوتا ہے، دولت گردش میں رہتی ہے، اور انصاف سب کے لیے یکساں ہوتا ہے۔رسولِ اکرمؐ نے فرمایا: ’’اگر فاطمہ بنت محمدؐ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ کاٹوں گا‘‘۔ یہ وہ عدل ہے جس نے مدینہ کو امن و انصاف کا گہوارہ بنایا۔ آج اسی عدل کی، اسی روحِ مصطفی کی، اور اسی نظام کی ضرورت ہے۔ اجتماعِ عام کا مقصد صرف ہجوم اکٹھا کرنا نہیں بلکہ ذہنوں کو منظم اور فکر کو زندہ کرنا ہے۔ یہ اجتماع یاد دلاتا ہے کہ قوموں کی تقدیر جلسوں سے نہیں بلکہ نظریات سے بدلتی ہے۔ یہاں شعور بانٹا جاتا ہے، سمت دی جاتی ہے، اور کردار تراشے جاتے ہیں۔ نظام کی تبدیلی کا مطلب صرف حکومت بدلنا نہیں بلکہ سوچ، اقدار، اور ترجیحات بدلنا ہے۔ یہ کام صبر، قربانی اور استقامت مانگتا ہے۔ یہ راستہ مشکل ہے، مگر ہر وہ راستہ مشکل ہوتا ہے جو منزلِ حق کی طرف جاتا ہے۔ رکاوٹیں وہی ہیں جو ہمیشہ اہل ِ حق کے سامنے رہتی ہیں۔ مفاد پرست اشرافیہ، کرپٹ بیوروکریسی، لادین میڈیا، اور وہ طبقہ جو ظلم کے نظام سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب قوم بیدار ہو جائے، تو فرعون بھی لرز جاتے ہیں۔ یہ اجتماع اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اب قوم کا شعور غلام نہیں رہا۔ اب وہ سوال کرتی ہے، سوچتی ہے،

منظم ہوتی ہے، اور میدانِ عمل میں اُترنے کو تیار ہے۔ یہ اجتماع نوجوانوں کو پکار رہا ہے: آؤ! یہ ملک تمہارا ہے، اس کا مستقبل تمہارے ہاتھوں میں ہے۔اقبال نے جس نوجوان کا خواب دیکھا، مودودی نے اس کے لیے فکر کی بنیاد رکھی، اور آج جماعت ِ اسلامی اْس خواب کو حقیقت کا روپ دینے جا رہی ہے۔ یہ اجتماع مایوسی کے اندھیروں میں اْمید کا دیا ہے۔ یہ یقین دلاتا ہے کہ اگر نیت خالص ہو، سمت درست ہو، اور قیادت مخلص ہو تو کوئی طاقت تقدیر کے دھارے نہیں روک سکتی۔

وہی مینار جو 1940ء میں قراردادِ پاکستان کی علامت بنا، اب 2025ء میں عہد ِ انقلاب کا گواہ بننے جا رہا ہے۔ یہ مینار صرف پتھروں کا ڈھانچہ نہیں، بلکہ امت کے شعور اور عزم کی علامت ہے۔ یہاں امت عہد کرے گی کہ اب خواب ادھورے نہیں رہیں گے۔ اب پاکستان واقعی اسلام کا قلعہ بنے گا۔ عدل، امن، اور اخوت کا گہوارہ۔ یہ اجتماع اْس وعدے کی تجدید ہے جو ہم نے اپنے ربّ سے کیا تھا: کہ ہم اس کی زمین پر اس کا نظام نافذ کریں گے۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے، یہی بقاء کی ضمانت ہے۔ اب فیصلہ قوم کے ہاتھ میں ہے کیا ہم ظلم کے نظام کے ساتھ جینا چاہتے ہیں یا عدلِ مصطفی کے ساتھ کھڑا ہونا؟ کیا ہم تماشائی بن کر تاریخ کے کنارے بیٹھے رہیں گے یا کردار بن کر میدان میں اُتریں گے؟ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنی صفوں کو منظم کریں، اپنے ایمان کو تازہ کریں، اور اپنی منزل طے کریں۔ یہ قوم جب متحد ہو جائے تو کوئی طاقت اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔ مینارِ پاکستان ایک بار پھر گواہی دے گا یہ قوم زندہ ہے، بیدار ہے، اور اپنے ربّ کے وعدے پر یقین رکھتی ہے۔ اْٹھو جوانوں، بدل دو نظام! اْٹھو جوانوں، ہے وقت ِ قیام! اجتماعِ عام 2025 بیداریِ امت کا نیا سنگِ میل۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا ٹھو جوانوں یہ اجتماع ا نہیں بلکہ کے ساتھ ہے کہ ا کے لیے رہا ہے بلکہ ا

پڑھیں:

سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت

ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔

سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔

سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔

سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی؛ موٹر سائیکل سوار نوجوان کی خاتون سے نازیبا حرکت، ویڈیو سامنے آگئی
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت