Jasarat News:
2026-06-03@06:28:38 GMT

اجتماع عام 2025: اْٹھو جوانوں، بدل دو نظام!

اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251121-03-7
لاہور کی فضا ایک بار پھر انقلاب کی آہٹ سن رہی ہے۔ مینارِ پاکستان وہی تاریخی مقام جہاں کبھی 1940ء میں ایک خواب نے جنم لیا تھا، اب 2025ء میں ایک نئے عزم، ایک نئے سفر، اور ایک نئے نظام کے قیام کا گواہ بننے جا رہا ہے۔ اکیس، بائیس اور تیئس اکتوبر کے یہ دن محض تاریخ کے اوراق نہیں، بلکہ اْمید، بیداری اور تبدیلی کے نئے ابواب رقم کرنے جا رہے ہیں۔ یہ وہ لمحے ہیں جب لاکھوں نوجوان، مزدور، طلبہ، علماء، اساتذہ، مائیں، بہنیں، اور بزرگ ایک ہی صدا میں پکار اٹھیں گے: ’’اْٹھو جوانوں، بدل دو نظام! اْٹھو جوانوں، ہے وقت ِ قیام!‘‘ یہ نعرہ محض سیاسی جوش نہیں بلکہ فکری بیداری اور روحانی انقلاب کا اعلان ہے۔ یہ اس قوم کے نوجوانوں کی للکار ہے جنہیں دہائیوں سے جھوٹے وعدوں، کھوکھلی جمہوریت اور مفاد پرست سیاست کے بوجھ تلے دبایا گیا۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح سرمایہ دارانہ نظام نے عوام کو غلام، اور جاگیردارانہ سیاست نے ان کے خوابوں کو قید کر رکھا ہے۔ اب وہ خاموش نہیں رہ سکتے، کیونکہ ان کے دلوں میں اقبال کی صدائیں جاگ اٹھی ہیں: ’’جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے، مرا عشق مری نظر بخش دے!‘‘

اجتماعِ عام 2025 صرف ایک اجتماع نہیں، بلکہ امت ِ مسلمہ کے شعور کی تجدید ِ عہد ہے۔ یہ وہ تحریک ہے جو سید ابوالاعلیٰ مودودی کے فکر و نظریے کی تسلسل ہے۔ وہ فکر جس نے غلام ذہنوں میں آزادی کی جوت جلائی تھی۔ آج وہی جماعت، وہی عزم، اور وہی مشن ایک بار پھر مینارِ پاکستان کے سائے میں نظامِ مصطفی کے قیام کے عہد کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ اجتماع اس بات کا اعلان ہے کہ اس ملک کا مستقبل کسی مغربی ماڈل، کسی سرمایہ دارانہ ڈھانچے یا کسی جاگیردارانہ سیاست میں نہیں بلکہ اسلامی نظامِ عدل و مساوات میں ہے۔ یہ اجتماع اس نوجوان کے لیے پیغام ہے جو تعلیم کے باوجود بے روزگار ہے، اْس مزدور کے لیے جو اپنی محنت کے باوجود بھوکا سوتا ہے، اْس ماں کے لیے جو اپنے بچوں کے علاج کے لیے در در ٹھوکریں کھاتی ہے، اور اْس طالب علم کے لیے جو خواب دیکھنے سے پہلے ہی مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر انقلاب کا محور نوجوان ہوتے ہیں۔ رسول اکرمؐ کے ساتھیوں میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ علیؓ، مصعبؓ، اسامہؓ، زبیرؓ یہ سب ایمان، یقین اور قربانی کے پیکر تھے۔ اسلام کی بنیاد جس نسل نے رکھی، وہ جوانی کی حرارت اور سوزِ یقین سے لبریز تھی۔ آج بھی وہی وقت لوٹ آیا ہے۔

پاکستان کا نوجوان سیاست سے مایوس نہیں وہ سیاستدانوں سے مایوس ہے۔ وہ انقلاب چاہتا ہے مگر خون خرابہ نہیں، وہ تبدیلی چاہتا ہے مگر اصولوں کے ساتھ۔ یہی نوجوان اجتماعِ عام میں منظم قوت بن کر ابھرنے جا رہے ہیں۔ ان کی للکار اس نظام کے خلاف ہے جس نے تعلیم کو کاروبار، صحت کو منافع، اور انصاف کو تجارت بنا دیا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو شعور یافتہ ہے، جو قرآن و سنت اور اقبال و مودودی کی فکر سے روشنی لے رہی ہے۔ اجتماعِ عام انہیں سمت دے گا۔ فکر کی سمت، نظم کی سمت، اور قیادت کی سمت۔

پاکستان کا قیام کسی زبان یا نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ لا الٰہ الا اللہ کے نعرے پر ہوا تھا۔ لیکن

78 برس بعد بھی ہم وہ نظام نافذ نہ کر سکے جو اس نعرے کا تقاضا تھا۔ ہم نے اسلام کو مسجد کی چار دیواری میں قید کر دیا، عدالتوں اور معیشت میں مغرب کی اندھی تقلید شروع کر دی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارا ملک مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن اور اخلاقی زوال کی تصویر بن چکا ہے۔ نظامِ مصطفی وہ نظام ہے جس میں عدل و مساوات کی ضمانت ہے۔ جس میں حکمران خادم ہوتا ہے، دولت گردش میں رہتی ہے، اور انصاف سب کے لیے یکساں ہوتا ہے۔رسولِ اکرمؐ نے فرمایا: ’’اگر فاطمہ بنت محمدؐ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ کاٹوں گا‘‘۔ یہ وہ عدل ہے جس نے مدینہ کو امن و انصاف کا گہوارہ بنایا۔ آج اسی عدل کی، اسی روحِ مصطفی کی، اور اسی نظام کی ضرورت ہے۔ اجتماعِ عام کا مقصد صرف ہجوم اکٹھا کرنا نہیں بلکہ ذہنوں کو منظم اور فکر کو زندہ کرنا ہے۔ یہ اجتماع یاد دلاتا ہے کہ قوموں کی تقدیر جلسوں سے نہیں بلکہ نظریات سے بدلتی ہے۔ یہاں شعور بانٹا جاتا ہے، سمت دی جاتی ہے، اور کردار تراشے جاتے ہیں۔ نظام کی تبدیلی کا مطلب صرف حکومت بدلنا نہیں بلکہ سوچ، اقدار، اور ترجیحات بدلنا ہے۔ یہ کام صبر، قربانی اور استقامت مانگتا ہے۔ یہ راستہ مشکل ہے، مگر ہر وہ راستہ مشکل ہوتا ہے جو منزلِ حق کی طرف جاتا ہے۔ رکاوٹیں وہی ہیں جو ہمیشہ اہل ِ حق کے سامنے رہتی ہیں۔ مفاد پرست اشرافیہ، کرپٹ بیوروکریسی، لادین میڈیا، اور وہ طبقہ جو ظلم کے نظام سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب قوم بیدار ہو جائے، تو فرعون بھی لرز جاتے ہیں۔ یہ اجتماع اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اب قوم کا شعور غلام نہیں رہا۔ اب وہ سوال کرتی ہے، سوچتی ہے،

منظم ہوتی ہے، اور میدانِ عمل میں اُترنے کو تیار ہے۔ یہ اجتماع نوجوانوں کو پکار رہا ہے: آؤ! یہ ملک تمہارا ہے، اس کا مستقبل تمہارے ہاتھوں میں ہے۔اقبال نے جس نوجوان کا خواب دیکھا، مودودی نے اس کے لیے فکر کی بنیاد رکھی، اور آج جماعت ِ اسلامی اْس خواب کو حقیقت کا روپ دینے جا رہی ہے۔ یہ اجتماع مایوسی کے اندھیروں میں اْمید کا دیا ہے۔ یہ یقین دلاتا ہے کہ اگر نیت خالص ہو، سمت درست ہو، اور قیادت مخلص ہو تو کوئی طاقت تقدیر کے دھارے نہیں روک سکتی۔

وہی مینار جو 1940ء میں قراردادِ پاکستان کی علامت بنا، اب 2025ء میں عہد ِ انقلاب کا گواہ بننے جا رہا ہے۔ یہ مینار صرف پتھروں کا ڈھانچہ نہیں، بلکہ امت کے شعور اور عزم کی علامت ہے۔ یہاں امت عہد کرے گی کہ اب خواب ادھورے نہیں رہیں گے۔ اب پاکستان واقعی اسلام کا قلعہ بنے گا۔ عدل، امن، اور اخوت کا گہوارہ۔ یہ اجتماع اْس وعدے کی تجدید ہے جو ہم نے اپنے ربّ سے کیا تھا: کہ ہم اس کی زمین پر اس کا نظام نافذ کریں گے۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے، یہی بقاء کی ضمانت ہے۔ اب فیصلہ قوم کے ہاتھ میں ہے کیا ہم ظلم کے نظام کے ساتھ جینا چاہتے ہیں یا عدلِ مصطفی کے ساتھ کھڑا ہونا؟ کیا ہم تماشائی بن کر تاریخ کے کنارے بیٹھے رہیں گے یا کردار بن کر میدان میں اُتریں گے؟ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنی صفوں کو منظم کریں، اپنے ایمان کو تازہ کریں، اور اپنی منزل طے کریں۔ یہ قوم جب متحد ہو جائے تو کوئی طاقت اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔ مینارِ پاکستان ایک بار پھر گواہی دے گا یہ قوم زندہ ہے، بیدار ہے، اور اپنے ربّ کے وعدے پر یقین رکھتی ہے۔ اْٹھو جوانوں، بدل دو نظام! اْٹھو جوانوں، ہے وقت ِ قیام! اجتماعِ عام 2025 بیداریِ امت کا نیا سنگِ میل۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا ٹھو جوانوں یہ اجتماع ا نہیں بلکہ کے ساتھ ہے کہ ا کے لیے رہا ہے بلکہ ا

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار