سندھ ایچ ای سی کے تحت نظام صحت کی بہتری، پائیدار پالیسی اقدامات پر دو روزہ کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف اسٹریٹجک پلاننگ کے تحت دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں سندھ میں صحت کے نظام کی پائیداری اور بہتری کے لیے پالیسی اقدامات پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔
کانفرنس کا مقصد ہیلتھ کیئر سسٹین ایبلٹی روڈ میپ (2025-2030) کی تیاری میں معاونت فراہم کرنا تھا، اس کی سربراہی پروفیسر ڈاکٹر ایس.
اس موقع پر سینئر حکومتی نمائندگان، صحت کے اداروں کے رہنما اور علمی ماہرین شریک ہوئے تاکہ صوبے کے صحت کے نظام میں طویل المدتی اصلاحات پر غور و خوض کیا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی کانفرنس میں شریک ہوئے، جبکہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، سندھ انسٹیٹوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن(سیوٹ)، انڈس اسپتال اور پی پی ایچ آئی کے نمائندگان نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں صحت کے بنیادی ڈھانچے، دیہی علاقوں میں خدمات کی فراہمی کی گورننس، انسانی وسائل کی ترقی، نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ کی صلاحیتوں کے فروغ اور صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی اور جدت کے کردار پر تفصیلی مباحثہ ہوا۔
حکام نے بتایا کہ دو روزہ اجلاس سے حاصل ہونے والی سفارشات سندھ کی صحت کی اگلی پالیسی فریم ورک کی تیاری اور ادارہ جاتی منصوبہ بندی میں معاون ثابت ہوں گی تاکہ پائیدار اور جامع صحت کی خدمات کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔