پاکستان میں کم قیمت الیکٹرک گاڑی کا انتظار آخرکار ختم ہوگیا۔ ALEKTRA نے ملک کی اب تک کی سب سے سستی EV پیش کر دی ہے، جس کی قیمت صرف 10 لاکھ 45 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان الیکٹرک وہیکل سیکٹر میں اہم سنگ میل، مقامی طور پر اسمبل الیکٹرک کاریں لانچ

2 سال کی موٹر اور بیٹری وارنٹی کے ساتھ یہ گاڑی عام شہریوں کے لیے ایک نئی اور معاشی آپشن کے طور پر سامنے آئی ہے۔

یہ گاڑی تکنیکی طور پر ایک کوآڈری سائیکل ہے، جو سائز میں آلٹو جیسے اے سیگمنٹ کار سے بھی چھوٹی ہے، مگر بنیادی سہولیات مکمل فراہم کرتی ہے۔ اس میں 4 نشستیں، بند کیبن، 4 پہیے، ایئرکنڈیشنر (کولنگ اور ہیٹنگ)، میوزک پلئیر، بلیوٹوتھ کنیکٹیویٹی اور پوائنٹ A سے پوائنٹ B تک سفر کی تمام بنیادی سہولتیں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:2024: وہ مشہور گاڑیاں جن کی جگہ الیکٹرک کاریں لیں گی؟

 ALEKTRAیہ گاڑی خود نہیں بناتی بلکہ چین سے تیار شدہ ماڈل کو وائٹ لیبل کرکے پاکستان میں اپنے برانڈ کے تحت فروخت کرتی ہے۔ کمپنی اس گاڑی کے لیے مقامی طور پر سپورٹ، سیلز اور وارنٹی کی سروس بھی فراہم کر رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے کئی معروف یوٹیوبرز جیسے Supercar Blondie اور WhistlinDiesel بھی ان چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کا ریویو کر چکے ہیں۔

نمایاں فیچرز

 لمبائی/چوڑائی/اونچائی: 2450×1250×1650 ملی میٹر

 الیکٹرک پاور: 2.

68 ہارس پاور

 بیٹری آپشنز: 7.2 kWh / 10.8 kWh / 12.96 kWh

 رینج: 80–100 کلومیٹر، 130–150 کلومیٹر، 160–180 کلومیٹر

 زیادہ سے زیادہ رفتار: 45–50 کلومیٹر فی گھنٹہ

 چارجنگ: 220V گھریلو سوکٹ سے 5–7 گھنٹوں میں فل چارج

 سہولیات: اے سی، بلیوٹوتھ، ریموٹ اسٹارٹ، ریورس کیمرہ، اینٹی تھیفٹ الارم

 رنگ: سفید، کریم، پنک، پیلا، سرخ، نیلا

 وارنٹی: بیٹری و موٹر کی 2 سال تک مرمت یا تبدیلی

مہران یا یہ نئی EV؟

اسی قیمت میں 2013–14 ماڈل کی ایک اچھی کنڈیشن کی سوزوکی مہران بھی خریدی جا سکتی ہے، لیکن اس نئی EV کی خصوصیت اس کی کم لاگت، کم مینٹی ننس، اور 2 سال کی وارنٹی ہے، جبکہ پرانی مہران میں وارینٹی نہیں ملتی اور اس کے بہت سے میکانیکی مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

گاڑی کی بکنگ اور ٹیسٹ ڈرائیو ALEKTRA کے لبرٹی پارکنگ پلازہ (فرنٹ سائیڈ) پر دستیاب ہے۔ ڈیلیوری 90 دن کے اندر متوقع ہے۔

یہ گاڑی ان صارفین کے لیے بہترین آپشن ہے جو سستی، سادہ اور انتہائی معاشی الیکٹرک گاڑی چاہتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ALEKTRA EV الیکٹرک کار سستی کار

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکٹرک کار سستی کار الیکٹرک کار یہ گاڑی کے لیے

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ