حلال تجارت کی ترقی اور اقتصادی تعاون کا وسیع تر فروغ ہماری ترجیح ہے، افغانستان
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
ترک حکومت کی سرکاری دعوت پر افغان وزیر نے استنبول میں عالمی حلال کانفرنس اور بین الاقوامی حلال نمائش کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ طالبان حکومت کے صنعت و تجارت کے وزیر نے ترک حکومت کی سرکاری دعوت پر استنبول میں عالمی حلال کانفرنس اور بین الاقوامی حلال نمائش کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور حلال تجارت کے فروغ اور اقتصادی تعاون میں توسیع کو افغانستان کی اولین ترجیحات میں شامل قرار دیا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے علاقائی دفتر کے مطابق، نورالدین عزیزی، طالبان حکومت کے وزیر صنعت و تجارت، ترک حکومت کی دعوت پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کرتے ہوئے استنبول میں عالمی حلال کانفرنس اور بین الاقوامی حلال نمائش کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔ انہوں نے افتتاحی تقریب میں اسلامی اور علاقائی ممالک کے ساتھ حلال تجارت کے فروغ اور اقتصادی روابط کی توسیع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان علاقائی اور عالمی حلال مارکیٹوں میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ طالبان کے وزیر صنعت و تجارت نے مزید کہا کہ افغانستان کی پیداواری اور برآمدی صلاحیتیں اس مارکیٹ کی ضروریات کے ایک حصے کو پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ اقتصادی پروگرام 110 سے زائد ممالک کے سرکاری نمائندوں اور نجی شعبے کی شرکت کے ساتھ 26 تا 29 نومبر 2025 کو ترکیہ کے شہر استنبول میں منعقد ہو رہا ہے اور حلال تجارت، پیداوار اور خدمات کے شعبے میں دنیا کے معتبر ترین بین الاقوامی اجتماعات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس تقریب کے دوران افغان تاجروں اور کمپنیوں نے نمائش میں بطور اسٹال ہولڈر اور وزٹر شرکت کی، جہاں وہ افغانستان کی مصنوعات، خدمات اور صنعتی صلاحیتوں کو غیر ملکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ طالبان حکومت کے حکام کا ماننا ہے کہ یہ شرکت برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کے حصول اور نئے تجارتی روابط کے قیام میں مدد کر سکتی ہے۔ طالبان حکومت کے وزیر صنعت و تجارت کی اس عالمی معاشی تقریب میں باقاعدہ شرکت کو افغانستان اور ترکیہ سمیت دیگر شریک ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے اور ملک کی اقتصادی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں پیش کرنے کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں افغانستان نے ’’حلال‘‘ کی شناخت اور مسلم ممالک کے ساتھ مذہبی و ثقافتی وابستگی کو بروئے کار لا کر علاقائی منڈیوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے، تاکہ اس کے ذریعے سیاسی اور بینکاری پابندیوں کے کچھ اثرات کو اقتصادی سفارت کاری کے ذریعے کم کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افتتاحی تقریب میں طالبان حکومت کے بین الاقوامی استنبول میں عالمی حلال حلال تجارت ممالک کے کے ساتھ اور بین کے وزیر
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن