کابل اور تہران کا تجارتی تعاون کے فروغ اور ٹرانزٹ راستوں کی ترقی پر زور
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی نے ترکی میں بین الاقوامی حلال نمائش کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرِ صنعت، معدن و تجارت سید محمد اتابک سے ملاقات اور گفتگو کی۔ اسلام ٹائمز۔ طالبان حکومت کے وزیرِ صنعت و تجارت نے ترکی کے دورے کے دوران ایران کے وزیرِ صنعت، معدن و تجارت سے ملاقات کی؛ دونوں فریقوں نے تجارتی تعاون کے فروغ، ٹرانزٹ راستوں کی وسعت اور افغانستان کی برآمدات و درآمدات کی سہولت کاری پر زور دیا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے علاقائی دفتر کے مطابق، طالبان حکومت کے وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی نے ترکی میں بین الاقوامی حلال نمائش کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرِ صنعت، معدن و تجارت سید محمد اتابک سے ملاقات اور گفتگو کی۔ اس ملاقات میں دونوں جانب نے افغانستان کی برآمدات و درآمدات کو آسان بنانے کے لیے بندر چابہار کے مؤثر استعمال پر زور دیا اور افغانستان سے ایران کو روئی (کپاس) کی برآمدات میں اضافے کے طریقوں پر غور کیا۔ اسی طرح دونوں ملکوں کے تاجروں کے لیے مزید سہولتیں فراہم کرنے اور پائیدار تجارتی مواقع پیدا کرنے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں وزیروں نے تجارتی تعاون کے فروغ، ٹرانزٹ راستوں کی توسیع اور کابل–تہران کے درمیان اشیاء کے تبادلے کے حجم میں اضافے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ان اقدامات کو افغانستان کی اقتصادی ترقی اور خطے کی تجارت میں اس کے فعال کردار کے لیے ضروری قرار دیا۔ ایران افغانستان کے لیے سمندری راستوں تک رسائی کا ایک اہم ٹرانزٹ گیٹ وے ہے، جبکہ بندر چابہار ایک کلیدی نقطہ ہونے کے ناطے گزشتہ برسوں میں کابل اور تہران کے درمیان اقتصادی مذاکرات کا مرکز رہا ہے۔ دونوں ممالک چابہار اور اس سے منسلک سڑکی و ریلوے نیٹ ورک کی بدولت افغانستان کی ٹرانزٹ لاگت اور وقت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس سے قبل بھی اعلیٰ سطحی حکومتی وفود کے دوروں کے ذریعے افغانستان اور ایران کے اقتصادی روابط پر پیش رفت ہوتی رہی ہے، جن میں ایران کے وزیرِ صنعت، معدن و تجارت کا افغانستان کا دورہ بھی شامل ہے، جہاں دونوں ممالک نے تجارتی تعاون میں اضافے، اشیاء کے تبادلے اور ٹرانزٹ و کسٹمز کی مشترکہ صلاحیتوں کو زیادہ فعال بنانے پر زور دیا تھا۔ یہ دوطرفہ ملاقاتیں اور وفود کے تبادلے کابل اور تہران کے درمیان ایک پائیدار اقتصادی تعاون کے فریم ورک کی مضبوطی کی کوششوں کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کے وزیر افغانستان کی تجارتی تعاون تعاون کے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین