پاکستان کو لیڈ کرنے کے لیے ایک خلیفہ آنے والا ہے , اس کی عمر 45 سال ہو گی اور اسکا تعلق بنو ھاشم سے ہو گا، آفتاب اقبال کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف اینکر پرسن اور کالم نگار آفتاب اقبال نے اپنے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کا نظام عنقریب بڑی تبدیلی سے گزرنے والا ہے۔ ان کے مطابق “اللہ نے اس کا فیصلہ کر لیا ہے اور پاکستان میں ایک خلیفہ آنے والا ہے۔”
اپنے وی لاگ میں آفتاب اقبال کاکہنا تھا کہ وہ شخص 45 سال عمر کا ہوگا، وردی میں نہیں ہوگا اور اس کا تعلق بنو ہاشم کے خاندان سے بتایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خاندان تاریخی روایات کے مطابق 710 عیسوی میں برصغیر میں پہنچا تھا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ “نئے نظام کو اللہ کا بھیجا ہوا شخص لیڈ کرے گا، جسے ووٹ کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وہ طویل عرصہ حکمرانی کرے گا۔”انہوں نے مزید کہا کہ “اس تبدیلی سے قبل پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید جنگ ہوگی۔”
دہشتگردی جمہوری معاشروں میں ناقابلِ قبول ٹھہرنی چاہیے،طاقت کے بل پر لوگوں کے حقِ رائے دہی سے انکار کرنا بھی دہشت گردی کو جنم دیتا ہے
میرا @Aftab_Iqbal1 سے صرف ایک سوال ہے
آپ کے اس دعوے کا سورس کیا ہے؟ غیب کا علم تو صرف اللہ رب العزت کی ذات کے پاس ہے۔ آپ کیسے اتنے وثوق سے کہہ رہے کہ پاکستان کو لیڈ کرنے کے لیے کوئی 45 سالہ شخص آ رہا ہے جس کی کوئی پبلک پروفائل نہیں ہے اور وہ بنو ہاشم سے ہے؟؟؟ pic.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :