Jasarat News:
2026-06-02@22:58:24 GMT

سہاروں سے محروم انسان

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">انسان کے بکھرتے رشتے اور ذہنی زوال

ماہر نفسیات ریٹائرڈ بریگیڈیئر شعیب احمد نے فرائیڈے اسپیشل کے ایک شمارے میں شائع ہونے والے اپنے انٹرویو میں نفسیاتی اور ذہنی مسائل کے حوالے سے کئی اہم باتیں کہی ہیں۔ مثلاً ایک بات انہوں نے یہ کہی ہے کہ ہمارا خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے۔ معاشرتی وحدت پارہ پارہ ہورہی ہے۔ اس سے ذہنی و نفسیاتی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب والدین جاب کررہے ہیں اور آیائیں بچے پال رہی ہیں۔ ہمارے معاشرتی تعلقات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ ہم کسی کو دل کی بات یا اپنے مسئلے بتاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اس سے بھی نفسیاتی و ذہنی عوارض پیدا ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے انسانی رشتے کمزور ہوگئے ہیں۔ چناں چہ اب ہمارے غم بانٹنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ہم اپنے غموں کا بوجھ خود اٹھاتے ہیں اور ذہنی و نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول مردوں کے مقابلے پر خواتین زیادہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی معاشرتی زندگی وسیع نہیں ہوتی۔ وہ گھر تک محدود ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر شعیب نے کہا کہ اب تو بچے بھی نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے لگے ہیں۔ اس لیے کہ بچوں میں بھی تعلیم اور اچھے نمبروں کے لیے مقابلے کا رجحان پیدا ہوگیا ہے۔ اس سے بچے ذہنی دبائو کا شکار ہورہے ہیں۔ (ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل 12 تا 18 جون 2020)

مسلمانوں کی ابتدائی تاریخ میں ذہنی و نفسیاتی عوارض کیا جسمانی امراض بھی خال خال نظر آتے تھے۔ ایسا بے سبب نہیں تھا۔ انسان کی زندگی روحانی، اخلاقی، تہذیبی، تاریخی، انسانی، جذباتی، نفسیاتی، ذہنی، سماجی اور معاشی سہاروں کے درمیان ہی نارمل رہ پاتی ہے۔ مسلمانوں کا قرون اولیٰ ہی نہیں بعد کا زمانہ بھی ان تمام حوالوں سے بہترین تھا۔ اردو شاعری میں انسان کے روحانی، انسانی، جذباتی، نفسیاتی، ذہنی اور تہذیبی سہاروں کا بیان بہت وسعت، گہرائی اور تواتر کے ساتھ ہوا ہے۔ چند مثالیں عرض ہیں۔

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اُٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد
(خورشید نبی عباسی)

تو اے مولائے یثرب آپ مری چارہ سازی کر
مری دانش ہے افرنگی مرا ایماں ہے زناری
(اقبال)

ہم ایسے اہلِ نظر کو ثبوت حق کے لیے
اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھی
(جوش)

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جائوں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اُتر جائوں گا
(احمد ندیم قاسمی)

دور بیٹھا غبارِ میر اس سے
عشق بھی یہ اَدب نہیں آتا
(میر)

تھی وہ اک شخص کے تصور سے
اب وہ رعنائیِ خیال کہاں
(غالب)

خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
(انیس)

بھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کِسے انشا
غنیمت ہے جو ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں
(انشاء اللہ خان انشاء)

دلوں کو فکرِ دو عالم سے کردیا آزاد
ترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے
(حسرت موہانی)

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھائوں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
(حفیظ جونپوری)

اک پتنگے نے یہ اپنے رقصِ آخر میں کہا
روشنی کے ساتھ رہیے روشن بن جائیے
(سلیم احمد)

تو مُنقّش ہے مری روح کی دیواروں پر
مجھ سے چہرہ نہ چھپا میں تو ترا پردہ ہوں
(ظفر اقبال)

یہاں ہمیں اپنی خالہ امی کے حوالے سے کہا گیا اپنا ایک شعر یاد آگیا۔ شعر یہ ہے۔

یہ جہاں ایک تماشا ہے سبھی کہتے ہیں
تم نہ ہوتے تو اسے ہم بھی تماشا کہتے

جیسا کہ ظاہر ہے مذکورہ بالا اشعار میں انسانوں کے کچھ بنیادی اور اہم ترین رشتوں اور سہاروں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں انسان کا اہم ترین سہارا خدا اور اس پر ہمارا ایمان ہے۔ خدا اور انسان کے ساتھ آدمی کے تعلق کی نوعیت وہی ہے جو زمین پر موجود پہاڑوں کی اہمیت ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پہاڑوں کو زمین پر میخوں کی طرح گاڑ دیا گیا ہے۔ یہی پہاڑ زمین کا توازن برقرار رکھتے ہیں اور اسے خرابی بلکہ تباہی سے بچاتے ہیں۔ خدا اور انسانوں کے ساتھ ہمارے تعلق کی اہمیت یہ ہے کہ اس کے بغیر ہماری زندگی اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اس وقت خدا کے ساتھ انسانوں کے تعلق کی نوعیت یہ ہے کہ دو سے ڈھائی ارب انسان سرے سے خدا ہی کو نہیں مانتے۔ مزید دو سے ڈھائی ارب انسانوں نے خدا کے شریک ایجاد کررکھے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ایک ارب 80 کروڑ مسلمان خدا کو مانتے ہیں مگر مسلمانوں کی عظیم اکثریت کے لیے خدا صرف ایک تصور صرف ایک Concept ہے۔ وہ مسلمانوں کی زندگی کا تحرّکنہیں ہے۔ وہ ان کی زندگی میں Functional Reality کی حیثیت نہیں رکھتا اسلام ایک بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ اچھی بری تقدیر خدا ہی کی طرف سے ہے۔ لیکن مسلمانوں کی عظیم اکثریت اچھی تقدیر کو تو قبول کرتی ہے مگر بری تقدیر کو قبول نہیں کرتی۔ اس پر احتجاج کرتی ہے۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو اس کا ماتم کرتی ہے اور ماتم شعور بندگی کی نفی ہے۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ غم کی حالت میں آنے والے آنسو خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور چیخ کر رونا شیطان کی طرف سے۔ لیکن مسلمانوں کی عظیم اکثریت غم و اندوہ پر صبر کرنے کے بجائے چیختی چلاتی اور ماتم کرتی نظر آتی ہے۔ ہمارا یہ رویہ بتاتا ہے کہ خدا ہمارے لیے صرف ایک تصور ہے۔ وہ ہماری زندگی میں شامل اور ہماری زندگی کی Functional Reality نہیں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں موت کا ایک وقت مقرر ہے اور کوئی موت بھی ’’ناگہانی‘‘ نہیں ہوتی۔ مگر ہم اکثر اموات کو ناگہانی اموات کی طرح لیتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ ہمارا خدا پر نفسیاتی، جذباتی اور ذہنی اعتبار سے انحصار نہیں ہے۔ ہمیں خدا سے کہیں زیادہ اپنے جذبات و احساسات زیادہ عزیز ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہماری زندگی میں نہ شکر ہوگا نہ صبر ہوگا نہ خدا پر ہمارا ہر اعتبار سے انحصار ہوگا تو پھر ہم نفسیاتی اور ذہنی امراض کی گرفت میں آکر رہیں گے۔ اس لیے کہ ہمارا سب سے بڑا روحانی، ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی سہارا ہماری زندگی میں موجود ہی نہیں۔

خدا کے بعد رسول اکرمؐ کی محبت ہمارا سب سے بڑا روحانی، اخلاقی، ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی سہارا ہے۔ رسول اکرمؐ سے ہمارے تعلق کے دو تقاضے ہیں۔ ایک یہ کہ ہمیں رسول اکرمؐ سے انتہائی درجے کی عقیدت ہو۔ دوسرا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں رسول اکرمؐ سے انتہائی درجے کی محبت ہو۔ عقیدت کا تقاضا جاں نثاری ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ اور مجھ جیسے عام مسلمان بھی رسول اکرمؐ سے ایسی عقیدت رکھتے ہیں کہ ہم رسول اکرمؐ کے لیے جان دے بھی سکتے ہیں اور جان لے بھی سکتے ہیں۔ مگر جس طرح عقیدت کا تقاضا جاں نثاری ہے اسی طرح محبت کا تقاضا اتباع ہے۔ مسلمانوں کی عظیم اکثریت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ رسول اکرمؐ کے لیے جان دے سکتی ہے مگر وہ رسول اکرمؐ کے اسوئہ حسنہ کے اتباع کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرمؐ کی ذات گرامی ہمارے پورے وجود پر اثر انداز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ذہنی و نفسیاتی مرض ہمیں آلیتا ہے اور رسول اکرمؐ سے ہمارا کمزور تعلق ہمیں ان امراض سے بچا نہیں پاتا۔ ہم رسول اللہؐ کا تباع کرنے والے ہوتے تو کوئی نفسیاتی اور ذہنی عارضہ ہمارے پاس نہیں پھٹک سکتا تھا۔

عام انسانی تعلق کے دائرے میں تعلق کی ایک تعریف یہ ہے کہ ہر انسانی تعلق کو وجود کی توسیع محسوس ہونا چاہیے۔ خاص طور پر انتہائی قریبی انسانی رشتوں میں۔ تعلق کی ایک تعریف یہ ہے کہ تعلق وہ ہے جس کے بغیر ہمیں زندگی گزارنا ناممکن محسوس ہو۔ یہ بھی نہ ہو تو ہمیں اس تعلق کے بغیر زندگی گزارنے میں دشواری کا احساس ہو۔ یہ بھی نہ ہو تو ہمیں اس تعلق کے بغیر زندگی ادھوری محسوس ہو۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو بہت کم تعلق‘ تعلق کہلانے کے مستحق نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارا عہد ’’تعلق‘‘ کا نہیں ’’تعلقات‘‘ کا عہد ہے۔ لفظ ’’تعلق‘‘ پر انسانیت، محبت اور قربت کا سایہ ہے۔ اس کے برعکس لفظ ’’تعلقات‘‘ پر دنیا داری، Pablic Relationing، کشش اور فاصلے کا سایہ ہے۔ اب بیش تر رشتے ’’محبت‘‘ کے نہیں ’’ضرورت‘‘ کے رشتے ہیں۔ ہمیں اپنا بچپن اور اس زمانے کے دوست اچھی طرح یاد ہیں۔ ہمیں اگر کوئی ہمارا دوست سوتے سے اٹھا کر لے جاتا اور کہتا کہ کنوئیں میں چھلانگ لگانی ہے تو ہم بلا تامل کنوئیں میں چھلانگ لگا دیتے اور چھلانگ لگانے کے بعد پوچھتے کہ کنوئیں میں چھلانگ لگانے کی وجہ کیا ہے۔ لیکن آج بہت ہی کم دوستیاں ایسی ہوں گی۔

اب دوستوں میں بھی دوست کم ’’ملنے والے‘‘ زیادہ ہوتے ہیں۔ اب دوستی میں بھی Public Relationing در آئی ہے۔ ہمیں یاد ہے بچپن میں ہمارے محلے میں دو گھر ایسے تھے جن کی مالی حالت انتہائی خستہ تھی۔ اس صورت حال میں محلے کے چار پانچ خاندانوں نے معاشی بدحالی کا شکار پڑوسیوں کے کھانے پینے کا بوجھ اپنے سر پر لیا ہوا تھا اور اس طرح جیسے وہ پڑوسیوں کی نہیں اپنے خونی رشتوں کی مدد کررہے ہوں۔ اب انسان مالی مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو خونی رشتے تک اس کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا ہے جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے تعلق جوڑو، جو تمہیں محروم کرے تم اس کو دو۔ رسول اکرمؐ کا یہ ارشاد مبارکہ اکثر مسلمانوں کے لیے محض ’’ایک بات‘‘ ہے۔ اس کا ہماری عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ اب ہم خود رشتوں کو توڑنے میں پہل کرتے ہیں اور اس پرخوش ہوتے ہیں۔ اب ہم محروم کرنے والے کو کیا حق دار کو بھی آسانی کے ساتھ اس کا حق نہیں دیتے۔ اور ’’حق‘‘ صرف ’’معاشی‘‘ یا ’’مالی‘‘ نہیں ہوتا۔ حق جذباتی، ذہنی اور نفسیاتی بھی ہوتا ہے چونکہ ہم جذباتی، ذہنی اور نفسیاتی دائرے میں بھی لوگوں کے حق پر ڈاکا ڈالنے والے بن گئے ہیں اس لیے ہمیں نفسیاتی اور ذہنی عوارض نے گھیر لیا ہے۔

سگمنڈ فرائیڈ جدید مغرب کی پیداوار ہے۔ اس کے بنیادی تصورات مذہب کی ضد ہیں مگر اس کے باوجود فرائیڈ نے یہ کہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے دائرے میں کوئی شخص ’’نارمل‘‘ نہیں رہ سکتا اور جب وہ نفسیاتی طور پر بیمار ہوجاتا ہے تو اس کی مکمل صحت یابی ممکن نہیں ہوپاتی۔ سرمایہ دارانہ نظام ’’مال مرکز‘‘ نظام ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام انسان کو مال کی محبت میں مبتلا کرتا ہے۔ مال کی حرص میں مبتلا کرتا ہے۔ مال کی ہوس میں مبتلا کرتا ہے۔ چناں چہ اس کے دائرے میں کوئی شخص بھی نارمل نہیں رہ سکتا۔ مسلمان کا سہارا اگر خدا، رسول اکرم اور بنیادی رشتوں کے بجائے مال و دولت ہو تو پھر سہارا بھی سہارے کی ضد بن جاتا ہے۔

شاہنواز فاروقی دانیال عدنان

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسلمانوں کی عظیم اکثریت نفسیاتی اور ذہنی ذہنی و نفسیاتی ہماری زندگی زندگی میں رسول اکرم کہ ہمارا ہوتے ہیں یہ ہے کہ میں بھی کے ساتھ کا شکار تعلق کی کے بغیر نے والے ہیں اور تعلق کے ہے کہ ا کے لیے اور اس

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی