پاکستان میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی اپیل پر  7 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ تحریر کیا ہے۔ اس نوٹ میں جسٹس علی باقر نے 3 رکنی بینچ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ظاہر جعفر کو سنائی گئی سزائے موت قانون اور شواہد کے مطابق ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی لکھا کہ لڑکے اور لڑکی کے درمیان لیو اِن ریلیشن شپ نہ صرف معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی سراسر منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نور مقدم کیس: مجرم کی سزا موت برقرار، دوسرے کیس میں سزا عمر قید میں تبدیل

جسٹس علی باقر نجفی کے مطابق ’لیونگ (لیو اِن) ریلیشن شپ‘ کا تصور معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور نوجوان نسل کو نور مقدم قتل جیسے واقعے سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

اس اضافی نوٹ کے بعد ایک نیا سوال شدت سے اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا واقعی لیو اِن ریلیشن شپ جرائم میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، یا پھر یہ ایک سماجی و اخلاقی رائے ہے جسے جرم کے ساتھ براہِ راست نہیں جوڑا جا سکتا؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ اس کیس میں جو جرم کیا گیا ہے، وہ اپنی جگہ ایک واضح اور مکمل جرم ہے، اور اسے قانون کے مطابق ہی دیکھا جانا چاہیے۔ کسی بھی طرح کی دوستی، رہائش، تعلق یا میل جول چاہے وہ اچھا سمجھا جائے یا برا جرم کی نوعیت کو کم نہیں کرتا اور نہ ہی ملزم کی ذمہ داری کم ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر کی اپیل مسترد، جسٹس باقر نجفی کا اختلافی نوٹ سامنے آگیا

ان کا کہنا تھا کہ ہر فرد پر اخلاقی ذمہ داری ضرور ہوتی ہے کہ وہ ایسے حالات سے بچیں جو بگاڑ یا غلط راستے کی طرف لے جائیں، خاص طور پر ایک ایسے معاشرے میں جو اسلامی اصولوں کے مطابق چلتا ہو۔

حافظ احسان احمد کھوکھر نے مزید کہا کہ عدالت 2 افراد کے آپس کے تعلق یا پس منظر کا ذکر تو کر سکتی ہے، لیکن ایسے عوامل کو استعمال کر کے جرم کو ہلکا نہیں کیا جا سکتا۔ جرم کی ذمہ داری صرف اس عمل اور نیت سے پیدا ہوتی ہے جس کے ساتھ جرم کیا گیا ہو، کسی کے طرزِ زندگی یا ذاتی فیصلوں سے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی نوٹ، رائے یا مشاہدہ جو یہ تاثر دے کہ متاثرہ لڑکی کا تعلق جرم کی نوعیت پر اثر ڈالتا ہے، انتہائی احتیاط سے دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ نہ یہ جرم کی سنگینی کو کم کرتا ہے اور نہ ہی سزا کو بدل سکتا ہے۔

خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی سماجی کارکن فرزانہ باری کا کا کہنا تھا کہ خواتین پر تشدد کا تعلق تعلقات کی نوعیت سے نہیں بلکہ اس ذہنیت سے ہے جس میں مرد خود کو عورت پر مکمل اختیار رکھنے والا سمجھتے ہیں۔ اور پھر یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اسے اپنے تشدد پر جوابدہی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:نور مقدم قتل کیس میں کب کیا ہوا؟

سائیکولوجسٹ سحرش افتخار کہتی ہیں کہ انسانی رویے اور جرائم کے اسباب بہت پیچیدہ ہوتے ہیں اور انہیں صرف ذاتی تعلقات یا طرزِ زندگی کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔ نوجوانوں کے تعلقات کی نوعیت میں ثقافتی، سماجی اور نفسیاتی عوامل شامل ہوتے ہیں، اور ہر تعلق کو جرم کی طرف مائل کرنے والا نہیں سمجھا جا سکتا۔

سحرش افتخار کے مطابق معاشرتی اور اخلاقی تربیت اہم ہے، مگر قانونی اور نفسیاتی اعتبار سے یہ ضروری ہے کہ جرم کے ارتکاب کو سائیکولوجیکل اور قانونی بنیادوں پر سمجھا جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ جرائم کے اسباب میں خاندانی ماحول، ذہنی صحت، سماجی دباؤ، اور فرد کی شخصی خصوصیات زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہیں، نہ کہ صرف کسی لیونگ ریلیشن شپ کا ہونا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے مقدمات میں یہ اہم ہے کہ معاشرہ اور میڈیا ذاتی تعلقات کو جرم کے مترادف نہ سمجھیں، کیونکہ اس سے نوجوانوں میں خوف، شرمندگی اور غیر ضروری دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ قانون کی ذمہ داری یہ ہے کہ جرم کو اس کی سنگینی کے مطابق دیکھا جائے، اور نفسیاتی پہلوؤں سے یہ سمجھا جائے کہ فرد نے کیوں ایسا عمل کیا، جبکہ کسی نجی تعلق کو جرم کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جسٹس علی باقر نجفی سحرش افتخار لیونگ ریلیشن شپ نور مقدم کیس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جسٹس علی باقر نجفی سحرش افتخار لیونگ ریلیشن شپ نور مقدم کیس جسٹس علی باقر نور مقدم قتل ریلیشن شپ باقر نجفی کی نوعیت کے مطابق سمجھا جا انہوں نے جا سکتا کیس میں کہا کہ جرم کی یہ بھی

پڑھیں:

جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم

سٹی 42: علیمہ خانم  نے  فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک  کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے

علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔

جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔

بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات  ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔

افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،

ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے